رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں محصور پاکستانی خواتین کی نئی اُمید


فائل فوٹو

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں پانچ اگست کو نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کے بعد وادی میں نقل و حمل کی پابندیوں سمیت دیگر پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

ان پابندیوں کی زد میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجود دو سو سے زائد پاکستانی خواتین بھی ہیں۔ ان خواتین میں سے بیشتر وہ ہیں جنہوں نے سابق کشمیری عسکریت پسندوں سے شادیاں کیں اور سالوں سے یہاں مقیم ہیں۔ ان خواتین کا مطالبہ ہے کہ یا تو انہیں پاکستان واپس بھجوا دیا جائے یا انہیں مقامی شہریت دی جائے۔

بھارت میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن اور وکیل پرویز امروز نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان خواتین کے حوالے سے عدالت میں ایک رٹ بھی دائر کی گئی تھی۔ جس پر عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔

تاہم پرویز امروز کے بقول پانچ اگست کی پابندیوں کے بعد سے اس کیس کی شنوائی نہیں ہو سکی۔ اور نہ ہی اس معاملے کو کسی اور فورم پر اٹھایا جا سکا۔

یہ پاکستانی خواتین بھارتی کشمیر کیسی پہنچیں؟

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے 2010 میں بھارتی وزارتِ داخلہ کی منظوری سے اُن افراد کی وطن واپسی اور آبادکاری کے لیے پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ جو 1990 کی دہائی میں عسکریت پسندوں کی صف میں شامل ہو گئے تھے۔

ایسے افراد جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور اس سے آگے چلے گئے تھے۔ ان نوجوانوں میں سے اکثر نے وہاں مقامی خواتین کے ساتھ شادیاں کر لی تھیں۔

آبادکاری پالیسی سے فائدہ اٹھانے والے 219 افراد اور ان کے کنبے 2010 اور 2012 کے درمیان نیپال اور دوسرے راستوں سے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر پہنچے۔ لیکن ان کی پاکستانی بیویاں سفری دستاویزات کی عدم موجودگی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان سفر کر سکتی ہیں اور نہ انہیں ابھی تک مقامی شہریت دی گئی ہے۔

کبریٰ گیلانی
کبریٰ گیلانی

اس غیر یقینی صورتِ حال کے باعث بہت سے خواتین پریشانی سے دوچار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک خاتون نے کچھ عرصہ قبل خود کشی بھی کر لی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجود بھارتی زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ ایک ہزار سے زائد افراد نے آباد کاری پالیسی کے لیے واپس آنے کی درخواستیں دی تھیں۔ جن میں 219 منظور کی گئیں۔

اپنوں سے دور جدائی کا غم!

پرویز امروز نے اعتراف کیا کہ ان خواتین کو اب افسوس ہے کہ وہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کیوں آ گئیں۔ کیونکہ وہ یہاں پھنس کر رہ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا "میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور آج بھی کہتا ہوں کہ ان معصوم خواتین کے ساتھ وعدہ خلافی ہوئی ہے۔ انہیں انصاف ملنا چاہیے۔"

ان خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے والدین اور دوسرے رشتے داروں سے ملے دس سال ہو گئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران پاکستان میں ان کے کئی قریبی رشتے دار فوت ہو گئے لیکن وہ اُن کا آخری دیدار نہیں کر سکیں۔

اب ان خواتین کے لیے اُمید کی ایک کرن پیدا ہو گئی ہے۔ گزشتہ دنوں بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ سے تعلق رکھنے والے ایک شہری محمد تاج کے ساتھ شادی کرنے والی ایک پاکستانی خاتون خدیجہ پروین کو بھارتی وزارتِ داخلہ کی منظوری کے بعد بھارتی شہریت دی گئی۔

ضلع کے ڈپٹی کمشنر راہول یادو نے بتایا کہ خدیجہ پروین کو بھارتی شہریت ایکٹ 1955 کی دفعہ 5 (1) (سی) کے تحت شہریت دی گئی۔ کیونکہ انہوں نے ایک بھارتی شہری سے شادی کی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے خدیجہ پروین کو سرٹیفیکیٹ آف رجسٹریشن اپنے دفتر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران ایک ایسے موقع پر دیا جب بھارت بھر میں اس متنازع شہریت بل کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔

پرویز امروز کہتے ہیں کہ خدیجہ پروین کے فیصلے سے یہ راہ ہموار ہو گئی ہے کہ اب یا تو ان خواتین کو شہریت دی جائے گی اور یا انہیں واپس پاکستان بھیج دیا جائے گا۔

بھارتی کشمیر کا شہریت قانون

واضح رہے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کا اپنا شہریت قانون تھا جو 5 اگست کو دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کی منسوخی کے بعد ختم ہو گیا۔ دفعہ 35 اے کے تحت بھارتی کشمیر میں جائیدادیں یا دیگر املاک خریدنے، سرکاری نوکریوں اور وضائف پر حق صرف جموں و کشمیر کے رہائشیوں کا تھا جو اب ختم ہو گیا ہے۔

اس قانون کے تحت ریاست کے مستقل باشندوں کو ایک خصوصی دستاویز جاری کی جاتی تھی جو 'اسٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفیکیٹ ' کہلاتی تھی۔ متعلقہ حکام نے اب اس طرح کی دستاویز جاری کرنا بند کردیا ہے۔ تاہم سٹیٹ سبجیکٹ قانون پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر میں تاحال نافذ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG