رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا کی 'بھارتی قسم' پر برطانوی ماہرین کا اظہارِ تشویش


برطانیہ میں لگ بھگ 70 فی صد آبادی کو ویکسین کی ایک خوراک لگ چکی ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے کرونا وائرس کی پابندیوں کو بتدریج نرم کرنے کا سلسلہ جاری ہے تاہم سابق اور موجودہ مشیروں نے کرونا کی بھارتی قسم کے تیزی سے پھیلنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

حکام کی جانب سے اس بات کو تسلیم کیا جارہا ہے کہ پیر سے بند مقامات پر گھلنے ملنے اور کچھ بین الاقوامی سیاحوں کو آنے کی اجازت دے کر ہم خطرہ مول لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ اور لندن کے شمال مغربی حصے میں B.1.617.2 قسم کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ قسم پہلے بھارت میں پائی گئی تھی۔

برطانیہ کے سابق اور موجودہ سائنسی مشیروں نے پابندیوں میں نرمی سے متعلق پہلے سے اعلان کردہ روڈ میپ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ بھارت میں پھیلنے والی کرونا وائرس کی قسم برطانیہ بھر میں بھی تیزی سے پھیل سکتی ہے جس سے اسپتالوں میں مریضوں کے داخلے اور اموات میں دوبارہ تیزی آسکتی ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

سابق چیف سائنٹیفک ایڈوائزر اور حکومت کے اہم ایڈوائزری پینل برائے ہنگامی صورتِ حال مارک وال پورٹ نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ ملک اس وقت خطرناک دوراہے پر ہے۔

دوسری جانب وزیرِاعظم بورس جانسن پر اپنے ہی قانون سازوں اور کاروباری طبقے کی طرف سے دباؤ ہے کہ وہ معمول کی طرف بحالی کے لیے پہلے سے اعلان کردہ ٹائم ٹیبل برقرار رکھیں۔

برطانیہ کے سیکریٹری صحت میٹ ہینکوک نے اتوار کو اسکائی نیوز پر گفتگو کے دوران اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ قسم ان لوگوں میں 'جنگل کی آگ کی طرح پھیل' سکتی ہے جنہیں ویکسین نہیں لگی ہے اور یہ 'کینٹ ویرینٹ' کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

کینٹ ویرینٹ برطانیہ میں ہلاکت خیز ثابت ہوا تھا جس کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن کرنا پڑا تھا۔

ہینکوک کا کہنا تھا کہ پیر کو کچھ پابندیوں میں نرمی کا منصوبہ آگے بڑھایا جائے گا لیکن 21 جون کو پابندیوں میں نرمی کے حتمی مرحلے پر آئندہ ماہ جائزہ لینا ہو گا۔

ان کے بقول 'ہمیں محتاط اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔'

ایک اور نامور حکومتی مشیر اور طبی ماہر جوہن ایڈ منڈس نے کہا ہے کہ حکومت کو پابندیوں کے خاتمے میں تاخیر کو خارج از امکان قرار نہیں دینا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'میرے خیال سے ہمیں اس کی بہت احتیاط سے نگرانی کرنی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں کسی بھی چیز کو مسترد کرنا چاہیے۔ لہٰذا اگر ایسا لگتا ہے کہ صورتِ حال خراب ہو رہی ہے تو پھر ہمیں ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔

ادھر اپوزیشن کے سینئر سیاست دانوں نے پیر سے پابندیوں میں نرمی کی حمایت کی لیکن انہوں نے اس پر تنقید کی کہ حکومت نے بھارت کو نام نہاد ریڈ لسٹ والے ممالک میں ڈالنے اور برصغیر سے مسافروں پر پابندی لگانے میں تاخیر کیوں کی؟

واضح رہے کہ بھارت میں پانچ اپریل سے ایک لاکھ سے زیادہ یومیہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں لیکن 23 اپریل تک بھارت کو برطانیہ کی ریڈ لسٹ میں نہیں شامل کیا گیا تھا۔

لیبر پارٹی کی مقامی حکومت کے ترجمان اسٹیو ریڈ نے کہا ہے کہ پانچ سے 23 اپریل کے درمیان لگ بھگ تین ہفتوں میں بھارت سے ملک میں 20 ہزار مسافر داخل ہوئے۔

ان کے بقول حکومت نے ملک کو 'خطرے کی اس حالت میں ڈالا ہے جس میں ہم اس وقت ہیں۔'

برطانیہ میں پابندیوں میں نرمی کی جہاں کچھ رہنماؤں نے حمایت کی وہی کچھ اپوزیشن سیاست دان زیادہ بین الاقوامی سفر کی اجازت دینے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ہاؤس آف کامنز میں امور داخلہ کی کمیٹی کے چیئرمین یویتے کووپر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کو برطانوی شہریوں کو چھٹیاں گزارنے کے لیے بیرون ملک جانے کے فیصلے کو واپس لینا چاہیے۔

برطانیہ میں کرونا وائرس کی صورتِ حال اب بہتر ہے اور وہاں کے صحت حکام کے مطابق کرونا کے یومیہ اوسط کیسز 2 ہزار کے لگ بھگ ہیں۔ اس وائرس سے اب تک برطانیہ میں ایک لاکھ 27 ہزار 675 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

برطانیہ کی تقریباً 70 فی صد آبادی نے کرونا وائرس ویکسین کی کم از کم ایک خوراک حاصل کرلی ہے۔ حکام کو امید ہے کہ آئندہ دس روز میں یومیہ خوراکیں پانچ سے آٹھ لاکھ تک بڑھا دی جائے گی۔

انہیں امید ہے کہ جولائی تک یومیہ 10 لاکھ خوارکیں لگائی جا سکیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG