رسائی کے لنکس

موجودہ حالات میں دوطرفہ کرکٹ سیریز کا انعقاد ممکن نہیں: بھارت

  • سہیل انجم

فائل

بھارتی وزیر کھیل نے الزام عائد کیا ہے کہ ’’پاکستان نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے اور سرحد پار کی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ اس لیے دونوں ملکوں کے براہ راست کھیلنے کا امکان نہیں ہے‘‘

بھارت کے کھیلوں کے وزیر، وجے گوئیل نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں بھارت اور پاکستان کے مابین دوطرفہ کرکٹ سیریز کا امکان ناممکن ہے۔ انھوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”دہشت گردی اور کھیل ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے“۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے اور سرحد پار کی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ اس لیے دونوں ملکوں کے براہ راست کھیلنے کا امکان نہیں ہے۔

اس سے قبل ’بی سی سی آئی‘ کے کارگزار سکریٹری، امیتابھ چودھری نے کہا تھا کہ ”ہمیں دونوں ملکوں میں کرکٹ سیریز سے کوئی پرہیز نہیں۔ لیکن، اس کا انحصار حکومت کی اجازت پر ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر سیریز نہیں ہو سکتی“۔

جہاں تک پاکستان پر دہشت گردی کو ہوا دینے کے الزام کا تعلق ہے تو پاکستان اس کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ خود دہشت گردی سے متاثر ہے اور وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ بھارت پر پاکستان کے اندر دہشت گردی کو ہوا دینے کا الزام عاید کرتا ہے۔

کھیلوں کے ایک ممتاز تجزیہ کار، پروفیسر نووی کپاڈیہ نے ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے رویے پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ ”ایک بین الاقوامی ذمہ داری بھی ہوتی ہے، جس کا بہرحال لحاظ رکھنا چاہیئے“۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ”کھیل میں سیاست داخل نہیں کرنی چاہیے“۔

پروفیسر کپاڈیہ نے مزید کہا کہ ”اب چیمپین ٹرافی ہونے والی ہے وہاں بھارت اور پاکستان میں سب سے پہلا مقابلہ ہے۔ اسی میں منتظمین کو سب سے زیادہ منافع ملنے والا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’دونوں ملکوں کے لوگ خوشی سے دیکھتے ہیں۔ ٹیلی ویژن پر بھی لوگ دیکھتے ہیں۔ کھیل کے جذبے کو قائم رکھنا چاہیے۔ اس میں دوستی ہونی چاہیے، اس میں سیاست داخل نہیں کی جانی چاہیے۔ میں سمجھ نہیں پاتا کہ بھارت ایسا کیو ںکرتا ہے۔ نہ ہاکی میں بلا رہا ہے نہ کبڈی میں بلا رہا ہے۔ ان کے کھلاڑیوں کو آنے دینا چاہیے۔ وہ تو کھلاڑی ہیں دہشت گرد تھوڑے ہیں“۔

دریں اثنا، پاکستان کرکٹ بورڈ اور ’بی سی سی آئی‘ کے عہدے دار دبئی میں ملاقات کر رہے ہیں، جہاں وہ 2014 میں طے پائے اس معاہدے پر تبادلہ خیال کریں گے جس کے تحت 2015 سے 2023 کے درمیان دونوں ملکوں میں 6 دوطرفہ سیریز ہونے والی تھیں۔ پاکستان نے بھارت کو چھ کروڑ ڈالر کے ہرجانے کا نوٹس دیا ہے۔ بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ اس نے سیریز سے متعلق کسی قانونی دستاویز پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG