رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: مبینہ بنیاد پرستی پھیلانے والی 22 ویب سائٹس بلاک


پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے دفاع اور خارجہ امور کے نائب سربراہ حنفی رئیس نے متنبہ کیا کہ حکومت کو انتہائی احتیاط سے کام لینا ہو گا۔

انڈونیشیا نے مبینہ طور پر اسلامی بنیاد پرستی کو بڑھاوا دینے والی 22 ویب سائٹس کو بلاک کردیا ہے۔

انھیں بلاک کرنے کی درخواست حال ہی میں انڈونیشیا کی انسداد دہشت گردی کی قومی ایجنسی نے کی طرف سے کی گئی تھی۔

جکارتہ میں پارلیمنٹ میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران ایجنسی کے سربراہ سعود عثمان نے بتایا کہ بہت سے عوامل کو دیکھتے ہوئے ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا جن میں لوگوں کو شام اور دیگر ممالک میں داعش کے ساتھ مل کر جہاد کے لیے اکسانا بھی شامل ہے۔

"اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی ویب سائٹ پر دہشت گردی کے حوالے سے جہاد کے لیے لوگوں کو اکسانے کے بارے میں لکھے گئے مضامین پر نظر رکھی جائے۔"

لیکن پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے دفاع اور خارجہ امور کے نائب سربراہ حنفی رئیس نے متنبہ کیا کہ حکومت کو انتہائی احتیاط سے کام لینا ہو گا۔

دریں اثناء سیتارا انسٹیٹیوٹ کی طرف سے کیے گئے ایک تازہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ انڈونیشیا کے بہت سے نوجوان داعش سے مرعوب ہو سکتے ہیں۔

جکارتہ اور بانڈونگ کے 684 طلبا پر مشتمل سروے میں سات فیصد کا کہنا تھا کہ وہ داعش کے نظریے سے اتفاق کرتے ہیں۔

انڈونیشیا داعش میں شامل ہونے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی بھی کر رہا ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ شام اور عراق میں انڈونیشیا کے درجنوں باشندے داعش کے ساتھ مل کر لڑائی لڑ رہے ہیں۔ حکام کے مطابق وہ اس شدت پسند گروپ میں شامل ہونے والے اپنے لوگوں کی شہریت منسوخ کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG