رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: ایک اور سونامی کا خدشہ، ہلاکتیں 429 ہو گئیں


انڈونیشیا میں آتش فشاں پھٹنے کے بعد آنے والے سونامی سے ہلاکتوں کی تعداد 429 ہو چکی ہے جبکہ 1400 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کی شب آنے والے سونامی سے متاثرہ علاقوں میں درجنوں افراد تاحال لاپتا ہیں جس کے پیشِ نظر ہلاکتوں میں اضافے کا خطرہ ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ریسکیو ادارے تاحال ہیوی مشینری کی مدد سے ملبے میں دبے ہوئے لوگوں کی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سونامی سے انڈونیشیا کے آبنائے سندا میں واقع سماٹرا اور جاوا کے جزائر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

دو سے تین میٹر بلند سمندری لہروں نے دونوں جزائر کے ساحلی علاقے میں داخل ہوکر گاڑیوں، عمارتوں اور دیگر املاک کو تہس نہس کردیا۔

اس آتش فشاں کی فضا سے لی گئی تصویر جس کے پھٹنے سے سونامی آیا۔
اس آتش فشاں کی فضا سے لی گئی تصویر جس کے پھٹنے سے سونامی آیا۔

درجنوں گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں اور سڑکوں پر جگہ جگہ پانی اور ملبہ جمع ہوگیا ہے جس سے امدادی کام متاثر ہو رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں کاروبارِ زندگی بھی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔

ادھر اسپتالوں اور طبی مراکز میں پہنچنے والے مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہوا ہے جس سے طبی امداد کی بروقت فراہمی میں بھی خلل پڑا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آتش فشاں کی سرگرمی کے باعث متاثرہ علاقوں میں بدھ تک سونامی کا خطرہ برقرار ہے۔

سونامی کے خطرے کے پیشِ نظر اب تک 12 ہزار سے زائد لوگوں کو ساحلی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے جب کہ سیکڑوں افراد کو کھلے میدانوں میں پناہ لینا پڑی ہے۔

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ سونامی زیرِ آب آتش فشاں پھٹنے کے باعث آیا جو وسیع پیمانے پر تباہی کا سبب بنا۔

تیز رفتار بلند سمندری لہروں سے رہائشی عمارتیں، ہوٹل اور دیگر تجارتی مراکز تباہ ہوگئے۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سونامی سے مجموعی طور پر 700 سے زائد عمارتیں تباہ ہوئی ہیں۔

نئے سال کی تعطیلات کے سلسلے میں تفریح کی غرض سے انڈونیشیا میں اس وقت غیر ملکیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ سونامی سے کسی غیر ملکی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

XS
SM
MD
LG