رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد کا وقت قریب


ایک اور مجرم اینڈریو چان کی آخری خواہش پر پیر کو عمل کیا گیا۔ انھوں نے اپنی دوست فبیانتی ہیرویلا کے ساتھ شادی کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ان دونوں کی شادی کی رسم جیل میں ہی ادا کی گئی۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور کئی عالمی رہنماؤں کی طرف سے صدائے احتجاج بلند کیے جانے کے باوجود انڈونیشیا میں حکام منشیات اسمگل کرنے کے جرم میں آٹھ غیر ملکیوں سمیت نو مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد کی تیاری تقریباً مکمل کر چکے ہیں۔

مجرموں میں شامل آسٹریلوی باشندے میوران سوکوماران کی والدہ نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ ان کے بیٹے کی سزائے موت پر نصف شب کے قریب فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے عملدرآمد کیا جائے گا۔

حکام نے اس بارے میں کسی مخصوص وقت کا تو نہیں بتایا لیکن ہفتہ کو انھوں نے مجرموں کو 72 گھنٹوں کا وقت دیا تھا جو انڈونیشیا کے قوانین کے مطابق سزائے موت پر عملدرآمد سے پہلے ہر مجرم کو دیا جانا ضروری ہے۔

منگل کی صبح تقریباً ایک درجن کے قریب ایمبولینس گاڑیاں نو تابوت لے کر نوساکامباگن جزیرے پر واقع انتہائی سکیورٹی والی جیل پہنچیں جہاں مجرموں کو پھانسی دی جانی ہے۔

مجرموں کی اپنے اہل خانہ سے ملاقات کروائی گئی اور اس موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ ان لوگوں نے ایک مرتبہ پھر انڈونیشیا کے حکام سے ان سزاؤں پر عملدرآمد روکنے کی درخواست کی۔

ایک دوسرے آسٹریلوی مجرم کی ایک بہن منگل کو اپنے دیگر اہل خانہ کے ہمراہ یہاں پہنچیں اور وہ شدید غم کی حالت میں روتی اور چیختی رہیں۔

ایک اور مجرم اینڈریو چان کی آخری خواہش پر پیر کو عمل کیا گیا۔ انھوں نے اپنی دوست فبیانتی ہیرویلا کے ساتھ شادی کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ان دونوں کی شادی کی رسم جیل میں ہی ادا کی گئی۔

سزائے موت پانے والوں میں آسٹریلیا، برازیل، فرانس، نائیجیریا اور فلپائن کے باشندے شامل ہیں۔

منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں موت کی سزا دیے جانے پر انڈونیشیا کے ان ملکوں کے ساتھ تعلقات میں تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔

گزشتہ اکتوبر میں منصب صدارت سنبھالنے کے بعد جوکو ویدودو منشیات سے متعلق جرائم میں سزائے موت کے سخت حامی ہیں۔

XS
SM
MD
LG