رسائی کے لنکس

انڈونیشیا: صدر جوکو ودودو نے دوسری مدت کے لیے حلف اٹھا لیا


انڈونیشیا کے صدر ودودو حلف اٹھانے کے بعد پارلیمان سے خطاب کر رہے ہیں

انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو نے انتخاب جیتنے کے بعد اتوار کے روز اپنی دوسری اور آخری پانچ سالہ مدت کیلئے حلف اُٹھا لیا ہے۔

صدر ودودو پہلی مرتبہ 2014 میں صدر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے ملک میں جمہوری کلچر کو فروغ دینے اور کرپشن کے خاتمے کے وعدے پر یہ انتخاب لڑا تھا۔ 58 سالہ ویڈوڈو غریب گھرانے سے ابھر کر سیاست کے میدان میں آئے اور ترقی کرتے ہوئے منصب صدارت پر پہنچے۔

دوسری بار ان کی حلف برداری کے موقع پر دنیا کے سب سے زیادہ مسلمان اکثریت والے ملک انڈونیشیا کے دارالحکومت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

صدر ودودو اپنی انکساری اور سادگی کے حوالے سے بھی شہرت رکھتے ہیں اور پارلیمان میں ہونے والی حلف برداری کی تقریب بھی سادگی سے منعقد کی گئی۔

صدر وڈوڈو کے حریف امیدوار پرابووو سوبیانٹو انہیں دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دے رہے ہیں
صدر وڈوڈو کے حریف امیدوار پرابووو سوبیانٹو انہیں دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دے رہے ہیں

تقریب کیلئے جاتے ہوئے صدر ودودو نے کچھ دیر کیلئے اپنی گاڑی سے اتر کر لوگوں سے ہاتھ ملائے۔

حلف برداری کے بعد اپنے خطاب میں ودودو نے کہا کہ وہ ملک کو آزادی کے 100 برس مکمل ہونے پر 2045 تک انڈونیشیا کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تک 27 کروڑ کے لگ بھگ آبادی کے ملک میں غربت کا خاتمہ کر دیں گے، اور مجموعی قومی پیداوار کو 70 کھرب تک لے جائیں گے۔

انڈونیشیا دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور یہ جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔

ودودو کی تقریب حلف برداری میں آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن، چین کے نائب صدر وانگ چیشان اور امریکہ کے وزیر ٹرانسپورٹ ایلین چاؤ سمیت متعدد غیر ملکی اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG