رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ہنگامے، چھ افراد ہلاک


انڈونیشیا میں گزشتہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر جوکو ودودو کی فتح کا اعلان ہونے کے بعد سے ملک میں صورتِ حال کشیدہ ہے اور اب تک ہونے والے ہنگاموں میں چھ افراد مارے جا چکے ہیں۔

انڈونیشیا کے الیکشن کمیشن نے منگل کو صدر ودودو کی کامیابی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد انتخابات میں ان کے حریف امیدوار اور سابق جنرل پرابووو سوبیانتو کے حامیوں نے جکارتہ سمیت کئی شہروں میں مظاہرے شروع کر دیے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین ابتداً پرامن رہے لیکن شام ڈھلتے ہی کئی مقامات پر مظاہرین نے جلاؤ گھیراؤ شروع کر دیا تھا جس سے نبٹنے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کرنا پڑا تھا۔

دارالحکومت جکارتہ کے گورنر نے ایک مقامی ٹی وی کو بتایا ہے کہ تمام رات جاری رہنے والی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے دوران بدھ کی صبح تک چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

گورنر کے مطابق فسادات کے دوران صرف دارالحکومت میں 200 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ملک کے کئی اور حصوں سے بھی احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی اطلاعات ہیں۔

منگل کو جکارتہ کے وسطی علاقے میں جمع ہونے والے سیکڑوں مظاہرین تاحال وہیں موجود ہیں جس کے باعث صورتِ حال سخت کشیدہ ہے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی وقفے وقفے سے جاری ہیں۔

فسادات کے باعث جکارتہ کے وسطی علاقے میں واقع دفاتر اور کئی سفارت خانے بدھ کو بند ہیں جب کہ علاقے کے تمام ٹرین اسٹیشنز کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

جکارتہ میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے بھی مظاہرین جمع ہیں جن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس نے وسطی علاقے کی جانب سے جانے والی تمام سڑکیں بند کردی ہیں، تاکہ مزید مظاہرین کی علاقے تک رسائی روکی جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فسادات سے نبٹنے کے لیے صرف جکارتہ میں پولیس اور فوج کے 40 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

انڈونیشیا کے صدارتی انتخابات کے لیے 17 اپریل کو ووٹ ڈالے گئے تھے جس کے نتائج کا اعلان الیکشن کمیشن نے منگل کو کیا تھا۔

نتائج کے مطابق، صدر ودودو کو 5ء55 فی صد ووٹ ملے ہیں جب کہ ان کے حریف جنرل پرابووو نے 5ء44 فی صد ووٹ حاصل کیے۔

انڈونیشیا دنیا کی تیسری بڑی جمہوریت ہے جس کے انتخابات کے دوران کل 15 کروڑ 40 لاکھ ووٹ ڈالے گئے تھے۔ ان میں صدر ودودو نے ساڑھے آٹھ کروڑ سے زائد ووٹ حاصل کیے۔

لیکن، جنرل پرابووو نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے نتائج تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جنرل پرابووو کے قانونی مشیر نے کہا ہے کہ وہ انتخابی نتائج ملک کی آئینی عدالت میں چیلنج کریں گے اور عوام کا چوری شدہ مینڈیٹ انہیں واپس دلانے کے لیے ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

لیکن انتخابات میں پرابوو کی حمایت کرنے والی دو بڑی جماعتوں - سابق صدر سوسیلو بمبانگ یودھویونو کی ڈیموکریٹک پارٹی اور نیشنل مینڈیٹ پارٹی نے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے صدر ودودو کو کامیابی پر مبارک باد دی ہے۔

لیکن جنرل پرابوو کی جماعت گریٹ انڈونیشیا موومنٹ نتائج تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔

حزبِ اختلاف کے دعووں کے برعکس آزاد مبصرین نے انتخابات کو شفاف اور آزادانہ قرار دیا ہے۔ پیر کو انتخابات کی نگرانی کرنے والے ایک ادارے نے بھی انتخابات میں منظم دھاندلی کے الزامات مسترد کر دیے تھے اور کہا تھا کہ ناقدین اپنے دعووں کا کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG