رسائی کے لنکس

logo-print

کرد فورسز کی جیل میں قید داعش کے 'جہادی'


شام کے شمال مشرقی صوبے ہساکے میں قائم جیل۔ (فائل فوٹو)

لوہے کے دروازوں کے پیچھے، بے چین آنکھیں لیے نارنجی رنگ کے یونیفارم میں ملبوس قیدی، زمین پر انتہائی قریب لیٹے ہیں۔ شدید تعفن زدہ ماحول میں وہ اپنے خون رستے زخموں کے ساتھ یہ آس لیے بیٹھے ہیں کہ کوئی انہیں اس قید سے رہائی دلا دے۔

یہ منظر نامہ ہے پانچ سال پہلے ایک جیل کا جو شام کے شمال مشرقی صوبے ہساکے میں تعمیر تھی۔ یہاں امریکہ کی اتحادی کرد فورسز نے شدت پسند تنظیم داعش سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد کو قید میں رکھا ہوا ہے۔​

کرد فورسز کی جیل میں داعش سے تعلق رکھنے والے 5000 'جہادی' قید ہیں۔ (فائل فوٹو)
کرد فورسز کی جیل میں داعش سے تعلق رکھنے والے 5000 'جہادی' قید ہیں۔ (فائل فوٹو)

کرد فورسز کی جیل میں داعش سے تعلق رکھنے والے پانچ ہزار 'جہادی' قید ہیں جن میں شامی اور عراقی افراد شامل ہیں۔ ان کے علاوہ برطانوی، فرانسیسی اور جرمن نژاد 'جہادی' بھی یہاں قید ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کو مذکورہ جیل کا دورہ کرایا گیا اور اس رپورٹ میں 'اے ایف پی' کے صحافیوں نے اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔

قیدیوں میں برطانوی، فرانسیسی اور جرمن نژاد قیدی بھی قید ہیں۔ (فائل فوٹو)
قیدیوں میں برطانوی، فرانسیسی اور جرمن نژاد قیدی بھی قید ہیں۔ (فائل فوٹو)

گزشتہ ماہ کرد فورسز کے خلاف ترک فوج نے کارروائی کی تھی جس کے بعد شمال مشرقی شام میں بے چینی کا عالم ہے۔ اس سے کہیں زیادہ بے چینی اس علاقے میں قائم جیل میں ہے جہاں کئی قیدی آزادی کی امید لیے بیٹھے ہیں۔

صوبۂ ہساکے میں قید کئی ملکوں سے تعلق رکھنے والے یہ قیدی انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان قیدیوں کے آبائی ملک نہ تو انہیں رہا کرانا چاہتے ہیں اور نہ ہی وہ انہیں واپس اپنے ملک بلانے پر رضا مند ہیں۔

ان کے معمولاتِ زندگی میں دن کی پانچ نمازیں پڑھنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ (فائل فوٹو)
ان کے معمولاتِ زندگی میں دن کی پانچ نمازیں پڑھنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ (فائل فوٹو)

ان قیدیوں میں سے چند ایک تو ابھی نو عمر ہیں جنہیں ایک عرصے سے کھلی فضا نصیب نہیں ہوئی۔ یہاں قید لوگوں کو نہیں معلوم کہ باہر کی دنیا میں کیا چل رہا ہے۔ ان کے معمولات زندگی دن میں پانچ بار نمازیں پڑھ کر ختم ہو جاتے ہیں۔

جیل میں قائم سیلوں کے ٹھنڈے فرش پر کارپیٹ ڈال کر سرمئی رنگ کے گدے بچھائے گئے ہیں اور سیل کے کونے میں ایک آدھی دیوار والا بیت الخلا موجود ہے۔

قیدیوں کے لیے بنائے گئے میڈیکل کلینک میں بھی اتنا ہی رش ہے، جتنا کہ جیل میں۔ (فائل فوٹو)
قیدیوں کے لیے بنائے گئے میڈیکل کلینک میں بھی اتنا ہی رش ہے، جتنا کہ جیل میں۔ (فائل فوٹو)

جیل کے ساتھ ایک میڈیکل وارڈ بھی قائم کیا گیا ہے جہاں داخل ہونے والوں کو تعفن سے بچنے کے لیے ماسک پہنائے جاتے ہیں۔

کرد فورسز کی جیل میں قید اکثر قیدی ہڈیوں کا ڈھانچہ ہیں۔ ان قیدیوں کو خوش نصیب سمجھا جاتا ہے جن کے پاس سونے کے لیے بیڈ ہیں۔ باقی قیدی فرش پر بیٹھنے پر مجبور ہیں جن کے جسموں پر زخم بھی لگے ہیں۔ قیدیوں کے لیے بنائے گئے میڈیکل کلینک میں بھی اتنا ہی رش ہے جتنا کہ جیل میں۔

قیدیوں میں سے چند ایک تو ابھی نو عمر ہیں جنہیں ایک عرصے سے کھلی فضا نصیب نہیں ہوئی۔ (فائل فوٹو)
قیدیوں میں سے چند ایک تو ابھی نو عمر ہیں جنہیں ایک عرصے سے کھلی فضا نصیب نہیں ہوئی۔ (فائل فوٹو)

ہساکے کی جیل میں ایسے قیدی بھی موجود ہیں جنہیں بھوک اور زخمی ہونے کی وجہ سے چند ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ دیگر قیدیوں کی طرح ان کے دل میں بھی صرف ایک ہی خواہش ہے۔ وہ یہ کہ انہیں ان کے گھر واپس جانے دیا جائے۔

بائیس سالہ ایک قیدی نے اس خواہش کا اظہار 'اے ایف پی' کے صحافیوں سے بھی کیا۔ اصیل متھن نے کہا کہ وہ اپنے گھر واپس جانا چاہتے ہیں۔

جیل سے متصل میڈیکل وارڈ میں داخل ہونے والوں کو تعفن سے بچنے کے لیے ماسک پہنائے جاتے ہیں۔ (فائل فوٹو)
جیل سے متصل میڈیکل وارڈ میں داخل ہونے والوں کو تعفن سے بچنے کے لیے ماسک پہنائے جاتے ہیں۔ (فائل فوٹو)

دوسری جانب جیل کے گورنر سرحت کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کا باہر کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے بقول کبھی کبھی داعش سے تعلق رکھنے والے کچھ 'جہادی' جیل کے قریب آکر فائرنگ کرتے ہیں۔ تاکہ ان قیدیوں کو بتا سکیں کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس جیل سے 100 سے زیادہ قیدی فرار ہو چکے ہیں۔ لیکن جیل کے گورنر سرحت نے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جیل سے کوئی بھی قیدی فرار نہیں ہوا ہے۔

صوبہ ہساکے میں قید درجنوں ممالک سے تعلق رکھنے والے یہ قیدی انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ (فائل فوٹو)
صوبہ ہساکے میں قید درجنوں ممالک سے تعلق رکھنے والے یہ قیدی انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ (فائل فوٹو)

البتہ کرد فورسز نے خبردار کیا ہے کہ اگر ترکی دوبارہ شام پر حملہ کرتا ہے تو ہساکے کی جیل سے قیدی فرار ہو سکتے ہیں جن میں چند انتہائی خطرناک قیدی بھی شامل ہیں۔

صحافیوں کو دورہ کراتے ہوئے بھی جیل میں تعینات محافظ ایک سیل کا دروازہ کھولنے سے گریزاں تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس سیل میں انتہائی خطرناک قیدی قید ہیں۔

قیدیوں میں سے ایک تہائی قیدی بیمار ہیں جن میں ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے مریض بھی شامل ہیں۔ (فائل فوٹو)
قیدیوں میں سے ایک تہائی قیدی بیمار ہیں جن میں ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے مریض بھی شامل ہیں۔ (فائل فوٹو)

جیل کا ایک سیل خاص طور پر ان بچوں کے لیے وقف تھا جنہیں داعش جنگجو بننے کی تربیت دے رہی تھی۔ صحافیوں کی آمد پر وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے 9 سالہ خالد نے سیل سے سر باہر نکال کر دیکھنے کی کوشش کی جس پر اسے ایک گارڈ نے کہا کہ آرام سے بیٹھو۔

'اے ایف پی' کے مطابق اس جیل میں قید کچھ بچوں کو واپس بھی کیا گیا ہے لیکن مردوں کا مستقبل ابھی واضح نہیں ہے۔

جیل کا ایک سیل خاص طور پر ان بچوں کے لیے وقف تھا جنہیں داعش جنگجو بننے کی تربیت دے رہی تھی۔ (فائل فوٹو)
جیل کا ایک سیل خاص طور پر ان بچوں کے لیے وقف تھا جنہیں داعش جنگجو بننے کی تربیت دے رہی تھی۔ (فائل فوٹو)

قیدیوں میں سے ایک تہائی قیدی مختلف بیماریوں کا شکار ہیں۔ ان میں ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے مریض بھی شامل ہیں۔

میڈیکل کیمپ میں رات بسر کرنے والے لگ بھگ 300 مریضوں میں سے ایک بیلجئم سے تعلق رکھنے والے اباللہ نومان نے اپنی قمیض اوپر کر کے اپنا زخم بھی دکھایا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ انہیں ان کے اپنے ہی ساتھی کی گولی لگی تھی جو اسلحہ صاف کر رہا تھا۔

جیل کے گورنر سرحت کا کہنا ہے اس جیل سے کوئی بھی قیدی فرار نہیں ہوا ہے۔ (فائل فوٹو)
جیل کے گورنر سرحت کا کہنا ہے اس جیل سے کوئی بھی قیدی فرار نہیں ہوا ہے۔ (فائل فوٹو)

ایک اور قیدی 42 سالہ باسیم عبدالعزیز ایک فضائی حملے میں اپنی دائیں ٹانگ سے محروم ہو چکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی بیوی کو ترکی جانے کا جھانسہ دے کر داعش میں شامل کرانے کے لیے شام لائے تھے۔

باسیم نے کہا کہ اب وہ نہیں جانتے کہ ان کی بیوی اور پانچ بچے کہاں اور کس حال میں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنی بیوی سے معذرت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اسے جنگ میں گھسیٹ لائے۔ باسیم نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے صرف ایک مرتبہ ان کی بیوی سے ملوا دیں پھر چاہے اسے مار دیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG