رسائی کے لنکس

logo-print

میانمار میں انتخابات سے قبل چھاپے اور گرفتاریوں میں اضافہ: رپورٹ


ایمنسٹی نے کہا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران ریاستی جبر میں اضافہ ہوا ہے اوراس وقت کم از کم 91 ’’ضمیر کے قیدی‘‘ میانمار میں قید میں ہیں۔

میانمار کے انتخابات سے ایک ماہ قبل انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جبر کے اپنے پرانے طریقوں پر عمل پیرا ہے۔

لندن میں قائم تنظیم نے جمعرات کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں حکومت کے اس دعوے کی تردید کی کہ اپنے حقوق کا پرامن استعمال کرنے والے کسی فرد کو قید نہیں کیا جا رہا۔

ایمنسٹی نے کہا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران ریاستی جبر میں اضافہ ہوا ہے اوراس وقت کم از کم 91 ’’ضمیر کے قیدی‘‘ میانمار میں قید میں ہیں۔

ایمنسٹی کی میانمار میں تحقیق کار لارا ہے نے کہا کہ ’’جن الزامات پر ان سرگرم کارکنوں کو گرفتار اور قید کیا جا رہا ہے ان پر اب قید کی سزا نہیں۔ ان پر نام نہاد ناقابل ضمانت جرائم کا الزام لگایا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ انہیں مقدمہ شروع ہونے سے قبل حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔‘‘

’’2015 کے شروع سے بظاہر اس رجحان میں تیزی آئی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ الیکشن سے قبل ایسا کیا جا رہا ہے۔ بنیادی طور پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ میانمار کی حکومت ایک طویل کھیل کھیل رہی ہے اور آواز اٹھانے والے اہم افراد کو سڑکوں سے اٹھا رہی ہے۔‘‘

تاہم آٹھ نومبر کو متوقع عام انتخابات کے لیے مہم کے دوران ایسی کوئی گرفتاریاں نہیں ہوئیں۔

لارا ہے نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’میانمار کی حکومت کو معلوم ہے کہ دنیا دیکھ رہی ہے اس لیے اس بات کا امکان نہیں کہ الیکشن کے دوران بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا۔‘‘

2013 کے آخر میں صدر کی جانب سے عام معافی کے بعد تقریباً تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا تھا۔

جو لوگ اب بھی قید میں ہیں ان میں انسانی حقوق کے کارکن، وکلا، حزب اختلاف کے سرگرم کارکن، طلبا، ٹریڈ یونینسٹ اور صحافی شامل ہیں۔

سٹوڈنٹ رہنما پھیو پھیو آنگ کو تعلیمی آزادی کو محدود کرنے والے ایک قانون کے خلاف مظاہرے منعقد کرنے کے الزام میں نو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

گزشتہ نومبر یانگون یونیورسٹی میں ایک مظاہرے کے دوران وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں آنگ نے کہا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی طلبا ’’جمہوری تعلیم، خود مختار یونیورسٹی اور تعلیم کی آزادی‘‘ کے لیے مظاہرے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کا تعلیمی معیار جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔

اگلے ماہ ہونے والے انتخابات 2011 میں ایک فرضی سویلین حکومت قائم ہونے کے بعد پہلی مرتبہ منعقد ہونے جا رہے ہیں مگر فوج اب بھی اس عمل کی سختی سے نگرانی کر رہی ہے اور اس بات پر قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ کیا الیکشن آزادانہ اور منصفانہ ہوں گے۔

چھ ہزار سے زائد امیدوار قومی اور علاقائی اسمبلیوں کی نشستوں کے لیے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم کم از کم 75 آزاد یا حزب اختلاف کے ارکان کو نااہل قرار دیا جا چکا ہے۔

ان میں مسلم اکثریت والی ڈیموکریسی اینڈ ہیومن رائٹس پارٹی کے 18 میں سے 15 وہ امیدوار بھی شامل ہیں جنہوں نے رخائن ریاست کے حلقوں سے انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کی تھی۔

میانمار کے رہنما مسلم اکثریتی روہنگیا برادری کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں جن کی اکثریت رخائن میں رہائش پذیر ہے۔

میانمار روہنگیا کو بنگلہ دیش سے آئے غیر قانونی تارکین وطن سمجھتا ہے جبکہ بنگلہ دیش بھی انہیں اپنے شہری نہیں سمجھتا۔

XS
SM
MD
LG