رسائی کے لنکس

نور مقدم قتل کیس: تمام ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل


سابق سفارت کار شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کو 20 جولائی کو اسلام آباد میں ظاہر جعفر نامی شخص نے قتل کر دیا تھا۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نور مقدم قتل کیس میں نامزد مرکزی ملزم ظاہر جعفر، اس کے والدین اور ملازمین کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کر لیے ہیں۔

منگل کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران شیخ رشید نے بتایا کہ نور مقدم قتل کیس کے تمام ملزمان کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل تھے لیکن پیر کو ان ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل کر دیے گئے ہیں۔

شیخ رشید کے مطابق وزیرِ قانون فروغ نسیم کی زیرِ صدارت ای سی ایل کمیٹی نے پیر کو ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی منظوری دی تھی۔

اس کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر اور اس کے والدین 23 اگست تک جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔ ظاہر جعفر کو بھی جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے جہاں اسے سخت سیکیورٹی میں رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سابق سفارت کار شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کو 20 جولائی کو اسلام آباد میں ظاہر جعفر نامی شخص نے مبینہ طور پر بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا تھا۔

ملزم کو موقع سے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ اس کے والدین کو اعانت جرم پر 25 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس کیس میں ظاہر جعفر کے والدین اور ملازمین کے کردار پر پولیس تاحال کام کر رہی ہے اور اب تک کی پولیس کی تفتیش کے مطابق ظاہر جعفر کے والدین اور ملازمین کا کردار بھی قتل میں ثابت ہوا ہے۔

ظاہر جعفر کی درخواستِ ضمانت مسترد کیے جانے کی وجوہات میں بھی عدالت نے ان دلائل کو تسلیم کیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ ملزمان نے اس معاملے پر پولیس کو اطلاع دینے کے بجائے تھراپی ورکس نامی ادارے کو ٹیلی فون کال کی۔ ملزمان کو اپنے بیٹے کے بارے میں علم تھا اور ملازمین کی طرف سے بھی جب اس بارے میں انہیں اطلاع دی گئی تو مبینہ طور پر انہوں نے ان کالز کو سنجیدہ نہیں لیا۔

پولیس اس معاملے میں ظاہر جعفر کے محافظ اور باورچی کو بھی شریکِ جرم سمجھتی ہے جنہوں نے ملزم کو روکنے کی یا پولیس کو اطلاع دینے کی مبینہ طور پر کوشش نہیں کی۔

بتایا جاتا ہے قتل کے روز نور مقدم نے بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر باہر مرکزی دروازے سے نکلنے کی کوشش کی تو ملزم ظاہر جعفر کے محافظ نے دروازہ بند کر دیا تھا اور ملزم نور مقدم کو گھسیٹتا ہوا واپس اوپر لے گیا تھا۔

پولیس کو اب تک پولی گرافک ٹیسٹ کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی جب کہ بعض اشیا کی فارنزک رپورٹس کا بھی انتظار ہے۔

اطلاعات کے مطابق پولیس کی لیگل ٹیم اس معاملے میں ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دلوانے کے لیے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔

تفتیش میں شامل ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ملزمان کے خلاف شواہد بہت مضبوط ہیں اور وہ تمام شواہد کو فارنزک ثبوتوں کے ساتھ منسلک کرنا چاہتے ہیں تاکہ کیس میں کسی قسم کا جھول نہ ہو اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جاسکے۔

ظاہر جعفر کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا اور امکان ہے کہ پولیس ملزم کو مزید جوڈیشل ریمانڈ پر رکھنے کی استدعا کرے گی۔ فی الحال اس کیس کا باضابطہ چالان تیار کیا جارہا ہے جسے عدالت میں پیش کر کے ملزمان کے خلاف کیس کی باقاعدہ سماعت کا آغاز ہوسکے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG