رسائی کے لنکس

logo-print

چمن: پاک افغان سرحد پر دوسرے روز بھی کشیدگی برقرار، انٹرنیٹ سروس بند


پاکستان کے صوبے بلوچستان میں افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے چمن میں جمعرات کو شیلنگ اور فائرنگ کے واقعے میں ہلاکتوں کے بعد حالات دوسرے روز بھی بدستور کشیدہ ہیں۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق جمعے کو بھی مشتعل مظاہرین نے پاک افغان سرحد پر باب دوستی کی جانب ریلی نکالی اور سرحد کے قریب قرنطینہ سینٹر میں داخل ہوئے۔

مظاہرین کو بابِ دوستی جانے سے روکنے پر سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تازہ جھڑپوں میں مزید سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

ادھر چمن میں کشیدہ صورتِ حال کے پیشِ نظر محکمۂ داخلہ بلوچستان نے شہر میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی منقطع کر دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق رات گئے تک پاکستان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری رہا۔

جمعرات کو چمن سرحد پر حالات اس وقت کشیدہ ہوئے جب اچانک سرحد بند کر دی گئی جس پر وہاں صبح سے افغانستان جانے کے منتظر سیکڑوں تاجروں اور مسافروں نے احتجاج کیا۔

حکومتِ پاکستان نے عید الاضحیٰ کے لیے بدھ کو چمن سرحد تین روز کے لیے پیدل مسافروں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا اس دوران سیکڑوں افراد نے سرحد عبور کی۔

لیکن حکام نے جمعرات کو سرحد کچھ دیر کھولنے کے بعد اچانک بند کر دی جس پر سیکڑوں مظاہرین نے سرحد پر دھرنا دے دیا۔

بعدازاں مشتعل مظاہرین نے زبردستی سرحد عبور کرنے کی کوشش کی جس پر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ کے نتیجے میں خاتون سمیت تین افراد ہلاک جب کہ 22 زخمی ہو گئے تھے۔

دوسری جانب افغان وزارتِ دفاع کی طرف سے جاری اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ رات ڈیورنڈ لائن سے متصل افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے اسپن بولدک میں پاکستانی فوج کی فائرنگ سے نو افراد ہلاک اور 50 زخمی ہو گئے ہیں۔

افغان حکام کے مطابق افغان چیف آف آرمی اسٹاف جنرل یاسین ضیا نے فوج کو جوابی کارروائی کے لیے الرٹ رہنے اور سرحد پر موجود اہل کاروں کو جدید اسلحے سے لیس کرنے کی ہدایت کی ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ کے بیان میں عام شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان معاہدوں کی پاسداری کرے اور سفارتی طریقوں سے مسائل کے حل کو یقینی بنائے۔

دوسری جانب بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو اور صوبائی وزیر زراعت زمرک خان اچکزئی نے چمن سرحد کا دورہ کیا اور تاجروں اور محنت کشوں سے مذاکرات کیے۔

وزیر داخلہ صیاء اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ چمن میں پاک افغان سرحد کی بندش کی بنیادی وجہ دہشت گردی کی روک تھام تھی کیوں کہ ماضی میں بھی دہشت گرد یہاں سے پاکستان میں داخل ہوتے رہے ہیں۔

پاک، افغان سرحد کو رواں سال مارچ میں کرونا وبا کی وجہ سے بند کر دیا تھا۔ تاہم بعد میں تجارت کی غرض سے اسے کھول دیا گیا تھا، البتہ پیدل سرحد عبور کرنے والوں کے لیے سرحد طویل عرصے سے بند تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG