رسائی کے لنکس

نیویارک حملے کی تحقیقات جاری، حملہ آور کی شناخت


اس ٹرک کی تصویر جس کے ذریعے حملہ آور نے راہ گیروں کو کچلا

امریکی حکام نے تاحال حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے لیکن امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور 29 سالہ ازبک نژاد سیفولو سائیپوو ہے جو 2010ء میں قانونی طریقے سے امریکہ آیا تھا۔

امریکہ میں پولیس حکام اور تحقیقاتی ادارے اس شخص کے ماضی اور محرکات کے بارے میں تفتیش میں مصروف ہیں جس نے منگل کو نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں راہ گیروں اور سائیکل سواروں پر ٹرک چڑھادیا تھا۔

امریکی تیوہار ہالووین کے موقع پر کی جانے والی اس کارروائی میں اب تک آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ 11 افراد شدید زخمی ہیں۔

ٹرک ڈرائیور کو بعد ازاں ایک پولیس اہلکار نے گولی مار کر زخمی کرنے کے بعد حراست میں لے لیا تھا جو حکام کے مطابق تشویش ناک حالت میں اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

امریکی حکام نے تاحال حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے لیکن امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور 29 سالہ ازبک نژاد سیفولو سائیپوو ہے جو 2010ء میں قانونی طریقے سے امریکہ آیا تھا۔

حکام کے مطابق سائیپوو کے پاس امریکی ریاست فلوریڈا کا ڈرائیونگ لائسنس ہے لیکن وہ ممکنہ طور پر نیویارک سے متصل ریاست نیو جرسی میں مقیم تھا۔

نیویارک کے پولیس کمشنر جیمز اونیل نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ منگل کی سہ پہر لگ بھگ 3:05 منٹ پر ایک شخص نے 'ہوم ڈپو' نامی معروف امریکی اسٹور سے کرایے پر لیا گیا ٹرک مین ہیٹن کے مصروف علاقے میں سائیکلوں کے مخصوص راستے پر چڑھا دیا تھا۔

حملے کے بعد پولیس نے جائے واقعہ کو ٹریفک اور راہ گیروں کے لیے بند کردیا ہے
حملے کے بعد پولیس نے جائے واقعہ کو ٹریفک اور راہ گیروں کے لیے بند کردیا ہے

کئی سائیکل سواروں اور راہ گیروں کو کچلنے کے بعد ٹرک ایک اسکول بس سے ٹکرا کر رک گیا تھا جس کے بعد ٹرک میں سوار شخص دونوں ہاتھوں میں پستولیں لہراتا ہوا ٹرک سے باہر نکل آیا جسے موقع پر پہنچنے والے پولیس اہلکار نے پیٹ پر گولی مار کر زخمی کرنے کے بعد حراست میں لےلیا تھا۔

پولیس کے مطابق واقعہ لوئر مین ہیٹن میں 11 ستمبر 2001ء کے حملوں میں تباہ ہونے والے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی یادگار کے نزدیک پیش آیا۔

ارجنٹائن کی وزارتِ خارجہ کے مطابق مین ہیٹن حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ارجنٹائن کے پانچ شہری شامل ہیں جو تفریح کی غرض سے نیویارک گئے تھے۔

بیلجئم کے نائب وزیرِ اعظم ڈیڈیئر رینڈرز نے بتایا ہے کہ حملے میں بیلجئم کا ایک شہری بھی ہلاک ہوا ہے۔

زخمی ہونے والوں میں اس اسکول بس میں سوار بعض طلبہ اور عملے کے افراد بھی شامل ہیں جسے ٹرک سوار نے ٹکر ماری تھی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈرائیور نے ٹرک سے باہر آتے وقت عربی میں "اللہ اکبر" کے نعرے لگائے تھے۔ تاہم جب پولیس کمشنر سے صحافیوں نے اس بارے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے ٹرک سے نکلتے وقت کچھ کہا تو تھا لیکن اس وقت وہ اس کے بارے میں مزید بات نہیں کرنا چاہتے۔

جائے واقعہ پر ٹرک سے کچلی جانے والی سائیکلیں دیکھی جاسکتی ہیں
جائے واقعہ پر ٹرک سے کچلی جانے والی سائیکلیں دیکھی جاسکتی ہیں

پولیس نے مین ہیٹن کے مرکزی علاقے کی شاہراہ کے دو میل طویل ٹکڑے کو تحقیقات کی غرض سے ٹریفک کے لیے بند کردیا ہے اور حکام نے کہا ہے کہ پورے نیویارک میں احتیاطاً سکیورٹی انتظامات سخت کیے جارہے ہیں۔

مین ہیٹن حملے کا طریقۂ کار بڑی حد تک شدت پسند تنظیم داعش سے وابستہ افراد کی جانب سے حالیہ کچھ عرصے کے دوران یورپ کے کئی شہروں میں کیے جانے والے حملوں سے ملتا جلتا ہے جس کے دوران حملہ آوروں نے درجنوں راہ گیروں کو گاڑیوں تلے کچل دیا تھا۔

گو کہ امریکی حکام نے تاحال کسی تنظیم کو واقعے پر موردِ الزام نہیں ٹہرایا ہے لیکن امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ داعش کو امریکہ میں کارروائیاں نہیں کرنے دیں گے۔

نیویارک کے میئر بِل ڈی بلاسیو نے واقعے کو دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا نشانہ معصوم شہری تھے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق مبینہ حملہ آور سیفولو سائیپوو ماضی میں ٹرک ڈرائیور رہ چکا ہے جب کہ وہ آن لائن ٹیکسی کمپنی اوبر کے ساتھ بھی بطور ڈرائیور کام کرتا رہا ہے۔

حملے کے وقت لی جانے والی ایک تصویر جس میں حملہ آور کو ٹرک سے نکل کر بھاگتے دیکھا جاسکتا ہے
حملے کے وقت لی جانے والی ایک تصویر جس میں حملہ آور کو ٹرک سے نکل کر بھاگتے دیکھا جاسکتا ہے

پولیس کے مطابق حملہ آور نے منگل کی دوپہر دو بجے نیو جرسی کے ایک 'ہوم ڈپو' اسٹور سے ٹرک کرایے پر لیا تھا جس کے لگ بھگ ایک گھنٹے بعد اس نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی یادگار کے قریب سائیکل سواروں کے لیے مخصوص راستے پر اپنا ٹرک چڑھایا۔

پولیس کے مطابق حملہ آور لگ بھگ 14 بلاک تک سائیکلوں کے راستے پر اپنا ٹرک دوڑاتا رہا جو لگ بھگ سوا کلومیٹر کا فاصلہ بنتا ہے جس کے بعد اس کا ٹرک ایک اسکول بس سے ٹکرانے کے بعد رک گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور "اللہ اکبر" کےنعرے لگاتا ہوا دونوں ہاتھوں میں پستولیں اٹھائے ٹرک سے نکل کر سڑک پر آیا جسے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے گولی مار کر زخمی کردیا۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ آور کے ہاتھوں میں موجود پستولیں بعد ازاں نقلی نکلیں جن میں سے ایک رنگ بکھیرنے والی گن جب کہ دوسری چھروں والی پستول تھی جو دیکھنے میں اصلی ہتھیار لگ رہی تھیں۔

حکام کے مطابق ٹرک سے ایک غیر ملکی زبان میں لکھا ہوا پیغام بھی برآمد ہوا ہے جس سے اس شبہے کو تقویت ملی ہے کہ یہ حملہ دہشت گردی ہی کی کارروائی تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG