رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: سبین محمود قتل کے خلاف مظاہرے، منفرد طریقہ احتجاج


سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد نے احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ تین تلوار کراچی پر سبین کی یاد میں ہر رات آٹھ بجے سے نو بجے تک شمعیں روشن کرنے کا سلسلہ بھی پابندی سے جاری رکھا ہوا ہے۔ بدھ کی رات شمعیں روشن کرنے کے ساتھ ساتھ منفرد طریقے سے ڈھول بجا کر بھی احتجاج کیا گیا

غیر سرکاری تنظیم ’ٹی ٹو ایف‘ کی سابق ڈائریکٹر سبین محمود کے قتل کو تقریباً ایک ہفتہ ہونے والا ہے۔ تاہم، ابھی تک اس قتل سے متعلق تحقیقات سامنے نہیں آسکی ہیں، جبکہ ملزمان کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ اِس کی وجہ سے، کراچی کی سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

جمعرات کی شام بھی ’کنسرنڈ سٹیزنز فار پیس‘ کی جانب سے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہوا، جس میں بڑی تعداد میں شہر سے تعلق رکھنے والی مختلف شعبوں کی نامور خواتین اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ شرکاء میں تحریک نسواں کی روح رواں شیما کرمانی، مصنفہ رومانہ حسین، اداکار خالد احمد اور فیشن ڈیزائننگ سے تعلق رکھنے والے محسن سعید اور دیگر افراد شامل تھے۔

شرکاء سے خطاب کے دوران سبین محمود کے قتل پر سخت رنجیدگی کا اظہار کیا گیا۔ شیما کرمانی نے میڈیا اور مظاہرین سے خطاب میں متعلقہ حکام اور حکومت کے سامنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ناصرف حکومت قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے، بلکہ اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت سے سول سوسائٹی کو بھی آگاہ کرے۔

ان کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ ریاست کے تمام ادارے آئین کے مطابق آزادی اظہار کے انسانی حق پر کاربند رہیں۔

شرکاء کا یہ بھی کہنا تھا کہ سبین ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھتی تھیں جو پیار، امن اور آزادی رائے پر آگے بڑھے اور ہمیں امید ہے کہ یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔

منفرد طریقہ احتجاج
سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد نے احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ تین تلوار کراچی پر سبین کی یاد میں ہر رات آٹھ بجے سے نو بجے تک شمعیں روشن کرنے کا سلسلہ بھی پابندی سے جاری رکھا ہوا ہے۔

بدھ کی رات شمعیں روشن کرنے کے ساتھ ساتھ منفرد طریقے سے ڈھول بجا کر بھی احتجاج کیا گیا۔ احتجاج میں مختلف نوجوانوں نے شرکت کی۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے سے گفتگو میں شرکاء کا کہنا تھا کہ ’سبین محمود کا قول تھا کہ دل کو غبار نکالنے کے لئے کسی بھی طریقے کو اپنایا جاسکتا ہے، خاص کر وہ طریقہ جسے اپناکر آپ اپنے آپ کو نارمل کرسکیں۔ لہذا، ہم ڈھول اور ڈفلی بجا کر اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کررہے ہیں اور سبین جو مشن چھوڑ کر گئی ہیں اسے آگے بھی بڑھا رہے ہیں۔‘

XS
SM
MD
LG