رسائی کے لنکس

logo-print

آئیووا کاکس آج ہوگا، ڈیمو کریٹ امیدواروں کی مہم تیز


ریاست آئیووا میں خفیہ ووٹنگ کی بجائے پارٹی نمائندوں کو براہِ راست منتخب کیا جاتا ہے۔

امریکہ کے صدارتی انتخاب کے لیے وسط مغربی ریاست آئیووا میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدواروں کے درمیان پیر کو مقابلہ ہو رہا ہے۔ آئیووا کاکس کہلانے والے اس عمل کے ساتھ ہی امریکہ میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار کی نامزدگی کے عمل کا باضابطہ آغاز ہوجائے گا۔

امریکہ کی دونوں بڑی جماعتیں - ڈیموکریٹ اور ری پبلکن - اپنے اپنے صدارتی امیدوار کے انتخاب کے لیے زیادہ تر ریاستوں میں پرائمری انتخابات منعقد کرتی ہیں جن میں رجسٹرڈ ووٹرز پولنگ اسٹیشن جا کر براہِ راست ووٹ ڈالتے ہیں۔

لیکن آئیووا سمیت چند امریکی ریاستوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کا اجلاس ہوتا ہے جس میں تفصیلی تبادلۂ خیال کے بعد خفیہ ووٹنگ کے بجائے پارٹی نمائندوں کو براہِ راست منتخب کیا جاتا ہے۔ اس عمل کو کاکس کہتے ہیں۔

آئیووا کاکس یا پرائمری الیکشن کا انعقاد کرنے والی امریکہ کی پہلی ریاست ہے جس کی وجہ سے آئیووا کاکس کو امریکہ میں صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ قرار دیا جاتا ہے۔

اگرچہ آئیووا میں ان دنوں سخت سردی ہے۔ چاروں طرف برف ہی برف پڑی ہے۔ لیکن پھر بھی تمام ڈیموکریٹک پارٹی امیدوار، اُن کے حامی اور رضاکار سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔

تمام امیدوار آئیووا پہنچ چکے ہیں اور کاکس کے لیے مہم میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ امیدواروں کے رضا کار بھی ٹیلی فون، ای میل یا خود لوگوں کے پاس جا کر اُنہیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آئیووا کاکس کیا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:52 0:00

اختتامِ ہفتہ پر ریاست ورمونٹ کے سینیٹر اور صدارتی امیدوار برنی سینڈرز نے ایک جلسے میں نوجوانوں سے خطاب کیا اور ایک بار پھر اپنا انتخابی ایجنڈا لوگوں کے سامنے رکھا۔

اس وقت ڈیموکریٹس کے 12 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں نو مرد اور تین خواتین ہیں جو آج کاکس مقابلے میں شریک ہوں گے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان آئندہ چند ماہ کے دوران تمام ریاستوں میں کاکس اور پرائمری کے ذریعے ان میں سے کسی ایک کو حتمی امیدوار منتخب کریں گے جو نومبر 2020 کے صدارتی انتخاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرے گا۔

صدر ٹرمپ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے اپنے عہدے کی دوسری مدت کے لیے امیدوار ہیں۔

یاد رہے کہ آئیووا کاکس میں کسی امیدوار کی فتح سے یہ بات یقینی نہیں ہو جاتی کہ وہ بالآخر اپنی جماعت کی نامزدگی حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائے گا۔

آئیووا کاکس میں بڑے مارجن سے شکست کھانے والے امیدوار ابتدائی مرحلے میں ہی صدارتی عہدے کی دوڑ سے باہر ہو جائیں گے۔

تاریخی اعتبار سے 'آئیووا کاکس' میں رائے دہندگان کے منتخب کردہ دونوں جماعتوں - یعنی ڈیموکریٹ اور ری پبلکن - کے امیدوار اگلے مرحلے میں اپنی جماعتوں کی نامزدگی حاصل کرنے میں ناکام ہوتے آئے ہیں۔

سیاسی مبصرین نظریاتی اور پارٹی وابستگی کے لحاظ سے آئیووا کو ایک ملی جلی انتخابی حمایت والی ریاست قرار دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ فلوریڈا، مشی گن، منی سوٹا، اوہایو، نیواڈا، نیو ہیمپشر، نارتھ کیرولائنا، پینسلوینیا، ورجینا اور وسکونسن ریاستیں بھی 'سوئنگ اسٹیٹس' ہیں۔

امریکہ کے سیاسی نظام میں 'سوئنگ اسٹیٹس' ان ریاستوں کو کہا جاتا ہے جہاں ووٹرز کا رجحان واضح نہیں اور وہ کبھی ڈیموکریٹ تو کبھی ری پبلکن امیدواروں کو منتخب کرتے ہیں۔

امریکی اخبار 'نیو یارک ٹائمز' کے ایک سروے کے مطابق آئیووا میں لبرلز کی جانب سے وسیع پیمانے پر حمایت کی وجہ سے ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز ڈیموکریٹ امیدواروں کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ ووٹرز کسی وقت بھی اپنا فیصلہ تبدیل کر سکتے ہیں۔

سینیٹر سینڈرز کے مقابلے میں ڈیلاور سے تعلق رکھنے والے سابق نائب صدر جو بائیڈن دوسرے نمبر پر ہیں جب کہ میسا چوسٹس سے منتخب سینیٹر اور خاتون صدارتی امیدوار الزبتھ وارن چوتھے نمبر پر ہیں۔

'ایم ایس این بی سی' کے مطابق برنی سینڈر پہلے، جو بائیڈن دوسرے، ریاست انڈیانا کے شہر ساؤتھ بینڈ کے سابق میئر پیٹ بوٹجِج تیسرے اور الزبتھ وارن چوتھے نمبر پر ہیں۔

لیکن امریکہ میں قومی سطح پر ہونے والے رائے عامہ کے جائزوں میں سابق نائب صدر جو بائیڈن تمام ڈیموکریٹ امیدواروں میں سب سے آگے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG