رسائی کے لنکس

logo-print

'مرگ بر امریکہ' کے نعرے کے دِن پورے ہوگئے: ایرانی پروفیسر


بقول اُن کے، 'یقیناً، مرگ بر امریکہ کے نعرے کے زوال کے دن ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاملے ہر ویانا سمجھوتا اسلامی تاریخ میں نئے باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جس کے باعث امریکہ کے خلاف جذبات کم ہونے لگے ہیں'

تہران یونیورسٹی کے ایک صاف گو تعلیم داں نے کہا ہے کہ ایران میں امریکہ مخالف نظریہ، 'مرگ بر امریکہ اپنی موت آپ مر رہا ہے'۔

سیاسیات کے پروفیسر، صادق زیباکلام نے 'وائس آف امریکہ' کی مرکزی نیوز ڈویژن کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران ایران میں ظہور پذیر ہونے والی تبدیلیوں کے باعث، ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ مرگ بر امریکہ کے دِن غروب ہو رہے ہیں‘۔

بقول اُن کے، 'یقیناً، یہ مرگ بر امریکہ کے نعرے کے زوال کے دن ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایران اور امیرکہ کے درمیان جوہری معاملے ہر ویانا سمجھوتا اسلامی تاریخ میں باب پلٹے جانے کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جس کے باعث امریکہ کے خلاف جذبات کم ہونے لگے ہیں'۔

پروفیسر نے کہا کہ 'زیادہ تعلیم یافتہ ایرانی بے چینی سے منتظر ہیں کہ جوہری سمجھوتے پر عمل درآمد ہو۔۔۔ دوسرے الفاظ میں، یوں کہیئے، کہ ہم امریکہ کی مخالفت کرتے کرتے تھک چکے ہیں اور اب ہم مرگ بر امریکہ کی حمایت کرنے یا یہ نعرہ بلند کرنے پر تیار نہیں'۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ 'طالب علم، مصنف، دانشور، فنکار اور پیشہ ور ایرانی مرگ بر امریکہ اور امریکہ مخالف سوچ کی مزید حمایت کرنے کے حق میں نہیں'، جس کے بارے میں زیبا کلام کا کہنا تھا کہ 'وہ، شاید 15 برس قبل تک ایسا ہی کرتے رہے ہیں'۔

بقول اُن کے، 'اب ایرانی طالب علموں کی مثلاً، بمشکل 10 فی صد تعداد ایسی ہوگی جو سختی سے اور حقیقی طور پر مرگ بر امریکہ کا نعرہ بلند کرنے میں دلچسپی رکھتے ہوں۔'

XS
SM
MD
LG