رسائی کے لنکس

logo-print

اوباما کا سمجھوتے کا دفاع، ’ایران ایٹم بم نہیں بنا سکے گا‘


اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، صدر اوباما نے کہا ہے کہ ’سمجھوتے کے تحت ایران کی جانب سے ایٹمی بم تیار کرنے کے تمام راستے بند ہوگئے ہیں‘۔۔۔۔ اور یہ کہ ’سمجھوتے کی بدولت امریکہ، اُس کے اتحادی اور دنیا زیادہ محفوظ ہوگئے ہیں‘

امریکی صدر براک اوباما نے بدھ کے روز ایران کے ساتھ طے پانے والے تاریخی سمجھوتے کا دفاع کیا، جس کی مدد سے ایران کی جوہری پروگرام پر روک لگائی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ سمجھوتے کی مدد سے دنیا کو ایک بہترین طریقہ کار میسر آگیا ہے جس سے یہ بات یقینی بنائی جا سکے گی کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔

وائٹ ہاؤس میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، امریکی سربراہ نے کہا ہے کہ ’سمجھوتے کے تحت ایران کی جانب سے ایٹمی بم تیار کرنے کے تمام راستے بند ہوگئے ہیں‘۔

اُنھوں نے اعلان کیا کہ سمجھوتے کی بدولت امریکہ، اُس کے اتحادی اور دنیا زیادہ محفوظ ہوگئے ہیں۔

صدر نے کہا کہ نظرثانی کے عمل کے دوران کانگریس اس سمجھوتے کی منظوری نہیں دے پاتا، تو یہ موقع کو ضائع کرنے کے مترادف ہوگا، اور یہ کہ ’تاریخ ہمیں اچھے الفاظ سے یاد نہیں کرے گی‘۔
بقول اُن کے، ایران کے ساتھ کسی دوسرے سمجھوتے کا موقع ہماری زندگی میں ممکن نہیں۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکہ کی قیادت میں کیے جانے والے مذاکرات، بقول اُن کے، ’امریکی قیادت کی قائدانہ صلاحیت کی بہترین مثال ہے‘۔

سمجھوتا طے کرنے پر مسٹر اوباما کو ریپبلیکن قانون سازوں اور رپپبلیکن صدارتی امیدواروں کی جانب سے شدید مخالفت درپیش رہے گی، جِن کی نظریں 2017ء میں صدارتی عہدے کے حصول پر لگی ہوئی ہیں، جب وہ اپنا عہدہ مکمل کریں گے۔ امریکی آئین کے مطابق، وہ تیسری بار انتخاب نہیں لڑ سکتے۔


مسٹر اوباما نے کہا کہ اُنھیں توقع ہے کہ امریکی کانگریس ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر ’ذمہ دارانہ‘ بحث مباحثہ کرے گی، اور بقول اُن کے، ’ایسا ہی ہونا چاہیئے‘۔

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ چند مخالفین کی یہ دلیل کہ ایران کے پاس کسی طرح کی جوہری صلاحیت نہیں ہونی چاہیئے، یہاں تک کہ پُرامن مقاصد کے لیے بھی نہیں۔۔۔ بقول اُن کے، یہ ’غیر حقیقت پسندانہ ہے‘۔

صدر اوباما کے الفاظ میں، ’دنیا اس بات سے اتفاق نہیں کرتی کہ ایران کو پُرامن جوہری پروگرام رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے‘۔

اِس ضمن میں، اُنھوں نے کہا کہ امریکہ اور دیگر ممالک نے ایران کی جانب سے کسی جوہری ہتھیاروں کے پروگرام تک رسائی پر قدغن ڈالنے کے معاملے کا ساتھ دیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایران کی طرف سے سمجھوتے کی شرائط سے انحراف کی صورت میں، ’اُس کی سخت پکڑ ہوگی‘، جس میں ایران کی معیشت پر پھر سے تعزیرات لاگو کیا جانا شامل ہوگا، جس بات سے ایران نے اتفاق کیا ہے اور جس کے لیے برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، روس اور امریکہ کے ساتھ مہینوں تک مذاکرات ہوتے رہے تھے۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ سمجھوتے کے بغیر، مشرق وسطیٰ کے مزید جنگ و جدل سے دوچار ہونے کا خطرہ لاحق رہے گا، اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک اپنے طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

امریکی لیڈر نے کہا کہ ایسے حالات میں ’ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ شروع ہوجائے گی‘، جو علاقہ، بقول اُن کے، ’دنیا کا خطرناک ترین خطہ ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں علاقائی تنازعات پر کنٹرول نہیں کر سکتا۔

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر امریکہ تعلیمی منصوبوں کی حمایت، مفلسی کے خاتمے اور کم تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بہتری کے لیے مدد فراہم کر سکتا ہے، تاکہ اُن کے لیے داعش میں کوئی کشش باقی نہ رہے، اور وہ مغرب کے خلاف لڑائی میں باغیوں کا ساتھ نہ دیں۔

ایک سوال کے جواب میں، مسٹر اوباما نے کہا کہ تین امریکی صحافیوں کی رہائی کے لیے ایران پر دباؤ ڈالا جارہا ہے، جن میں ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے نامہ نگار بھی شامل ہیں۔ ایران کے ساتھ سمجھوتے کے کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ اِن صحافیوں کی رہائی کے بغیر، صدر کو سمجھوتا کرنے پر تیار نہیں ہونا چاہیئے تھا۔

مسٹر اوباما نے داخلی امور کے بارے میں پوچھے گئے کچھ سوالات کے جواب دیے۔ لیکن، ایک مرحلے پر نامہ نگاروں سے کہا کہ سوالات کو ایران تک محدود رکھا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر آپ اس سمجھوتے کے کچھ ناقدین کی باتوں پر دھیان دیں، تو لگتا ہے جیسے ایران دنیا کی آواز پر حاوی ہونے والا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ معاملہ یہ نہیں ہے۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ 10 یا 15 برس تک بین الاقوامی نگرانی کے باوجود، اگر آخر کار ایران جوہری بم تیار کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو پھر بھی امریکہ اس قابل ہوگا کہ وہ ایران کی ایسی کوششوں کے خلاف دوسرے ممالک کو متحرک کرے۔

XS
SM
MD
LG