رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کی جوہری توانائی کے عالمی ادارے پرنکتہ چینی


ایران کے جوہری پروگرام کے سربراہ علی اکبر صالحیی نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارہ اخلاقی اختیار اور اعتماد کے بحران کا شکار ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کے سربراہ علی اکبر صالحیی نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارہ اخلاقی اختیار اور اعتماد کے بحران کا شکار ہے۔

پیر کے روز ویانا میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ایک اجلاس کے دوران علی اکبر صالحیی نے کہا کہ متنازعہ ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی تازہ ترین رپورٹ غیر منصفانہ ہے ۔

جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے ساتھ ایران کے تعلقات اس سال ادارے کے علم میں یہ آنے کے بعد کہ ایران اقوام متحدہ کی جانب سے یورینیم کی افزودگی روکنے کے مطالبے کے باوجود وہ اپنا یہ پروگرام آگے بڑھا رہاہے، کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا۔

مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ یورینیم کی افزودگی کے ایرانی پروگرام کا مقصد جوہری ہتھیار تیارکرناہے۔ جب کہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کاپروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

امریکہ کے وزیر توانائی سٹیون چو نے بھی آئی اے ای اے کے اجلاس میں ایران پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ تہران دنیا کو یہ یقین دلانے میں ناکام رہاہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔اسٹیون چو نے کہا کہ امریکہ بدستور ایران کے جوہری تنازعے کے سفارتی حل کے عہد سے وابستہ ہے۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکینو امانو نے اپنی رپورٹ میں تہران پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی کہ وہ اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے سے اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو روک کر عالمی جوہری ادارے کے کام میں رکاوٹیں کھڑی کررہاہے۔ امانو نے کہا کہ وہ یہ تصدیق نہیں کرسکتے کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں پرامن مقاصد کے لیے ہیں۔

ایران کے آئی اے ای اے کے دو معائنہ کاروں کو یہ الزام لگاتے ہوئے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں غلط رپورٹنگ کررہے ہیں، ملک میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔

امریکہ اور اس کے اتحادی ایران پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ سویلین نیوکلیئر پروگرام کے پردے میں جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کررہاہے۔ ایران اس سے انکار کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG