رسائی کے لنکس

logo-print

ایران میں حکومت مخالف تین سرگرم کارکنوں کی سزائے موت منسوخ


فائل فوٹو

ایران میں حکومت مخالف تین افراد کو ملنے والی سزائے موت کو واپس لے لیا گیا ہے۔ اب ایک ماتحت عدالت میں ان پر دوبارہ مقدمہ چلایا جائے گا۔

حکومت مخالف احتجاج میں شرکت کرنے والے ملزمان کے وکلا نے ان کی ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔ تاہم باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اُنہیں اب جیل میں زیادہ وقت گزارنا پڑے گا۔

ایران کی سپریم کورٹ نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے اُن تین افراد کی سزائے موت کو منسوخ کر دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ نومبر 2019 میں ملک بھر میں ہونے والے حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں اِن کی شرکت پر ماتحت عدالت یعنی انقلابی کورٹ میں ان پر پھر سے مقدمہ چلایا جائے۔

آمر حسین مرادی، محمد رجبی اور سید تمجیدی کو اس سال فروری میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ان تمام ملزمان کی عمریں بیس سے تیس سال کے درمیان ہیں، اور ان پر مبینہ طور پر آتش زنی، ریاست کے خلاف جنگ اور مسلح ڈکیتی کرنے کے الزامات عائد ہیں۔

مقدمہ انقلابی عدالت کے جج ابو ال قاسم سالاوتی نے یہ مقدمہ سنا تھا۔ جج ابو القاسم پرامریکہ نے گزشتہ سال دسمبر میں پابندیاں عائد کی تھیں کیونکہ انہوں نے متعدد سیاسی قیدیوں، انسانی حقوق کارکنوں اور پر امن مظاہرین کو سزائے موت جیسی سخت سزائیں سنائی تھیں۔ تاہم ایران کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ان پر دوبارہ مقدمہ کی سماعت انقلابی کورٹ کے کسی اور جج کے سامنے ہو گی۔

سپریم کورٹ نے اس سال جولائی میں ملزمان کو سنائی جانے سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔ تاہم چند دنوں بعد، عوام اور بین الاقوامی شخصیات کے زبردست احتجاج پر اپنے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت عالمی شخصیات کی جانب سے اپیل اور عوام کی جانب سے سوشل میڈیا پر کئے جانے والے سخت احتجاج کے باعث، ملزمان کے وکلا نے ایران کے جوڈیشری چیف ابراہیم رئیسی کو اپیل کی تھی کہ ان پر دوبارہ مقدمہ چلایا جائے۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع نے بتایا کہ اب مورادی، رجبی اور تمجیدی کے حوالے سے اگلا قدم یہ ہو گا کہ سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی کہ انقلابی کورٹ کی کونسی برانچ اب اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کرے گی۔

ذرائع کے مطابق، دوسرا، ان کے وکیل عدلیہ سے ان کی ضمانت پر رہائی کی درخواست کریں گے۔

تاہم ایسی کسی درخواست کو سخت رکاوٹوں کو سامنا ہو گا، کیونکہ ان ملزمان پر قومی سلامتی کے حوالے سے سخت الزامات عائد ہیں اور ایرانی عدلیہ ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر سکتی ہے، اور زرِ ضمانت کم از کم اڑتالیس ہزار ڈالر یا اس سے زائد رکھ سکتی ہے۔ اتنی بڑی رقم ایک عام ایرانی شہری کی پہنچ سے باہر ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG