رسائی کے لنکس

logo-print

طاہری کو موت کی سزا ’حقوق کی پامالی کا انتہائی اقدام‘: امریکہ


محکمہٴخارجہ کے ایک بیان مین کہا گیا ہے کہ، ’محمد علی طاہری کو مذہبی آزادی اور آزادی اظہار کے اپنے حقوق کے پُرامن استعمال پر سزا دی گئی ہے‘۔۔۔ بقول ترجمان، ’اپنی آزادی کے استعمال پر کسی شہری کو موت کی سزا دینا، اُن کے حقوق کی پامالی کا انتہائی اقدام ہے‘

امریکی محکمہٴخارجہ نے پاسدارانِ انقلاب کی ایک عدالت کی جانب سے ایران کی ایک روحانی تحریک کے بانی، محمد علی طاہری کو موت کی سزا سنانے پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اُن پر الزام ہے کہ وہ ’دھرتی پر فساد پھیلا رہے ہیں‘۔

محکمہٴخارجہ کے معاون ترجمان، مارک سی ٹونر نے کہا ہے کہ ’ہمیں اِس بات پر بھی تشویش ہے کہ تحریک کے کئی ایک مریدوں کو بھی اِنہی مبینہ غیر واضح جرائم پر قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مذہب اور اظہار رائے کی بنیادی آزادی شہریوں کا حق ہے، جو بین الاقوامی قانون کے تحت آفاقی طور پر تسلیم شدہ بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں میں شمار ہوتے ہیں۔‘

مارک ٹونر نے مزید کہا کہ ’ہماری دانست میں طاہری، جنھیں اکتوبر سنہ 2011سے اروین قیدخانے میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، اُن کے خلاف اسلام کے تقدس کی بے حرمتی کا الزام لگایا گیا ہے۔ درحقیقت، اُن کو مذہبی آزادی اور آزادی اظہار کے اپنے حقوق کے پُرامن استعمال پر سزا دی گئی ہے‘۔

بقول اُن کے، ’اپنی آزادی کے استعمال پر کسی شہری کو موت کی سزا دینا، اُن کے حقوق کی پامالی کا انتہائی اقدام ہے‘۔

ترجمان نے حکومت ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ ’طاہری کے موت کی سزا واپس لی جائے، اور اپنے شہریوں کے اظہار رائے اور مذہبی آزادی کی پاسدادری کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں‘۔

XS
SM
MD
LG