رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ مجاہدین خلق کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کرے: یورپی یونین


یورپی یونین پارلیمنٹ امریکہ پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپنی ان کوششوں میں تیزی لارہی ہے کہ وہ ایران کی ایک تنظیم’’مجاہدین خلق ایران‘‘ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کردے۔

جمعرات کے روز یورپی پارلیمنٹ نے ایک تحریری اعلامیہ کی منظوری دی جس میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آسٹن سے کہا گیا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے مجاہدین خلق ایران کے اخراج کے لیےصدراوباما انتظامیہ پر اثرورسوخ استعمال کریں۔

ایران کا یہ حکومت مخالف گروپ1997ء سے امریکہ کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہے۔

یورپی یونین نے پچھلے سال اسے دہشت گردتنظیموں کی اپنی فہرست سے خارج کردیا تھا اور یورپی پارلیمنٹ کے ارکان نے صدر اوباما کو ایک کھلا خط لکھا تھا جس میں کہا گیاتھا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایران کی مجاہدین خلق تنظیم مغرب کی دوست اور مذہبی بنیاد پرستوں کی دشمن ہے۔

اس ہفتے کے یورپی پارلیمنٹ کے اعلامیے میں اقوام متحدہ پر بھی یہ زور دیا گیا ہے کہ وہ مجاہدین خلق ایران کے ان ارکان اور اہل خانہ کو تحفظ فراہم کرے جو عراقی کیمپوں میں جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔

عراق نے 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد مجاہدین حلق کو پناہ فراہم کی تھی۔ لیکن اس وقت گروپ کے کچھ ارکان یہ الزام لگایا گیاتھا کہ انہوں نے تقربیاً 20 سال قبل شعیوں کے ایک انقلاب لانے کی کوششوں کو کچلنے میں صدام حسین کی مدد کی تھی۔

امریکہ، ایران اور عراق مجاہدین خلق ایران کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG