رسائی کے لنکس

logo-print

گیمبیا نے تہران سے تعلقات امریکی دباؤ پر توڑے: ایرانی رکن پارلیمنٹ


ایرانی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے الزام لگایا ہے کہ تہران کے ساتھ تعلقات توڑنے کا گیمبیاکا فیصلہ امریکی دباؤ کے زیر اثر ہے۔

مغربی افریقہ سے تعلق رکھنے والے اس ملک نے پیر کے روز کہاتھا کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تمام سفارتی اور اقتصادی تعلقات توڑ رہاہے اور اس نے ایرانی حکومت کی نمائندگی کرنے والے تمام افراد کو ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹوں کا وقت دیا ہے۔

گیمبیا کے عہدے داروں نے اپنے اس فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ، لیکن ایرانی رکن پارلیمنٹ علاؤ الدین بورجری نے کہا کہ گیمبیا کی یہ کارروائی امریکی دباؤ اور مختلف ممالک کے ساتھ، جن میں افریقہ میں واقع ملک بھی شامل ہیں، ایرانی تعلقات خراب کرانے کی امریکی پالیسی کا نتیجہ ہیں ۔

امریکی حکومت ایران پر یہ الزام عائد کرتی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کررہاہے۔ ایران اس سے انکار کرتا ہے۔

گیمبیا کے ایک سابق سفارت کار نے افریقی ملک کے اس اقدام کی ایک مختلف وجہ بیان کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ گیمبیا کے صدر یحیی نے ممکن ہے کہ یہ کارروائی ان رپورٹوں کے جواب میں کی ہوجن میں پچھلے ہفتے نائیجریا میں پکڑی جانے والے ایرانی ہتھیاروں کی ایک کھیپ سے ان کا تعلق ظاہر کیا گیاتھا۔

سابق سفارت کار عیسیٰ بوکر کا کہنا ہے نائیجریا اور گیمبیا کے اخباروں میں شائع ہونے والی رپورٹیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان ہتھیاروں کی منزل گیمبیا تھی۔ اقوام متحدہ نے تہران پر عائد اقوام متحدہ کی پابندیاں اسے بیرون ملک ہتھیار بھیجنے کی ممانعت کرتی ہیں۔

نائیجیریا کی حکومت نے پچھلے ہفتے راکٹوں اور گرینیڈوں کی پکڑی جانے والی کھیپ کی اطلاع اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو کردی تھی۔

XS
SM
MD
LG