رسائی کے لنکس

جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ ایران جائیں گے


آئی اے ای اے کے سربراہ یکیا امانو (فائل)

اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے ' آئی اے ای اے' کے سربراہ ایران کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کے لیے اتوار کو تہران کا دورہ کریں گے۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے انتہائی اہمیت کے حامل جوہری سمجھوتے کو امریکہ نے کمزور کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے نے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ اس دورے کے دوران 'آئی اے ای اے' کے سربراہ یکیا امانو کی توجہ " ایران کے 2015ء کے سمجھوتے پر عمل درآمدا ور آئی اے ای اے کی طرف سے اس عمل کی نگرانی کے معاملے پر مرکوز رہے گی۔"

رواں ماہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے پر ایران کی طرف سے عمل درآمد کرنے کے معاملے کی تصدیق نا کرنے کا فیصلہ کیا جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کا باعث بنا ہے۔

امریکی کانگرس کے پاس اب 60 دن کا وقت ہے جس میں اسے اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ایران پر وہ اقتصادی تعزیرات دوبارہ عائد کرنی ہیں یا نہیں جو ایران کی طرف سے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے میں اٹھا لی گئی تھیں۔

امانو جن کا ادارہ ایران کے جوہری پروگرام پر عائد ہونے والے حدود و قیود کی نگرانی کرنے کا ذمہ دار ہے، کا کہنا ہے کہ اس سمجھوتے کے تحت ایران کا جوہری پروگرام پہلے ہی دنیا میں سخت ترین نگرانی کے عمل کے تابع کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے جوہری معائنہ کاروں کو اس امر کی تحقیقات اور یہ تعین کرنے میں کوئی دقت نہیں اٹھانی پڑی کہ کیا ایران سمجھوتے پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔

ایران کے سرکاری خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امانو نائب صدر علی اکبر صالحی سے ملاقات کریں گے جو دیگر امور کے علاوہ ایران کے جوہری پروگرام کی نگران بھی ہیں۔

یورپی یونین کے رہنماؤں نے اس سمجھوتے سے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا ہے۔

ایران کے راہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ تہران اس وقت تک اس سمجھوتے سے وابستہ رہے گا جب تک اس پر دستخظ کرنے والے دیگر ملک اس کو مانیں گے لیکن وہ اس سمجھوتے کو "ختم" کر دیں گے اگر صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد واشنگٹن اس سمجھوتے سے الگ ہو جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG