رسائی کے لنکس

معاہدے کی توثیق نہ ہونے سے ایران سے نمٹنے کی راہ کھل گئی ہے: سابق سفیر


فائل

امورِ خارجہ کمیٹی کے روبرو شہادت دیتے ہوئے، اقوام متحدہ میں تعینات رہنے والے امریکہ کے ایک سابق سفیر، مارک ویلس نے کہا ہےکہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے سے امریکی حکومت کو یہ اجازت مل جائے گی کہ وہ اُن معاملات کو اٹھائے جو سمجھوتے میں شامل نہیں تھے

اقوام متحدہ میں امریکہ کے ایک سابق سفیر نے ایران کے ساتھ بین الاقوامی جوہری معاہدے کے معاملے پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عمل درآمد کی توثیق نہ کرنے پر جاری مباحثے میں شرکت پر بدھ کے روز قانون سازوں کی سرزنش کی ہے، جسے اُنھوں نے ’’کسی حد تک ایک جعلی مباحثہ‘‘ قرار دیا۔

ایوانِ نمائندگان کی امورِ خارجہ کمیٹی کے روبرو شہادت دیتے ہوئے، اقوام متحدہ میں تعینات رہنے والے امریکہ کے ایک سابق سفیر، مارک ویلس نے کہا ہےکہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے سے امریکی حکومت کو یہ اجازت مل جائے گی کہ وہ اُن معاملات کو اٹھائے جو سمجھوتے میں شامل نہیں تھے۔

وہ اقوام متحدہ کی انتظامیہ اور اصلاحات میں نمائندگی کے فرائض انجام دیتے رہے تھے، اور اب وہ ’یونائٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران‘ کے سرگرم گروپ کے سربراہ ہیں۔

اُنھوں نے قانون سازوں کو بتایا کہ ’’معاہدے کی توثیق کرنے یا نہ کرنے سے آسمان نہیں ٹوٹے گا‘‘۔

بقول اُن کے، ’’اب معاہدے کے حوالے سے ایران کے انداز کو دیکھنا ہوگا، جیسا کہ ’جوائنٹ کمپری ہنسو پلان آف ایکشن‘، چونکہ مذاکرات کے دوران ایران اور ہماری حکومت کئی معاملات کو شامل نہیں کرنا چاہتی تھیں؛ اس میں میزائل، دہشت گردی اور انسانی حقوق کے معاملے کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ آئیے اب ان پر پھر سے بات چیت کریں‘‘۔

ویلس نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے سے موجود معاہدے کی حرمت برقرار رکھی جائے، جب کہ توثیق کرنے کے عمل سے امریکی سفارت کار اب ایران کے معاملے پر زیادہ بوجھ ڈال سکیں گے، جس میں معاشی تعزیرات پر عمل درآمد کا معاملہ شامل ہے۔

بقول اُن کے ’’ہمیں ایران پر زور ڈالنا ہوگا، اور ہمیں اپنا معاشی دباؤ استعمال کرنا ہوگا۔ ماضی میں یہ کافی مؤثر رہا ہے، اب بھی یہ کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن، اس کے لیے دونوں جماعتوں کی کثرت رائے چاہیئے ہوگی، اور یہ کمیٹی ہمیشہ ایسا کرتی آئی ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG