رسائی کے لنکس

سعودی عرب کے بعد ایران عراق میں بھی مذہبی مقامات بند


قم شریف، ایران (فائل)

کرونا وائرس کے اثرات کے سبب اور اسکے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سعودی عرب کی طرح ایران میں بھی مشہد، قُم اور دوسرے شہروں میں واقع مقامات مقدسہ اور رومی بند کردئے گئے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب ایران میں سال نو کی چھٹیاں ہیں اور آج سے نو روز کا آغاز ہو رہا ہے۔
ایران میں اس وائرس نے شدید اثرات ڈالے ہیں اور نوروز کے موقع پر جہاں بہت بڑے پیمانے پر عوامی سرگرمیاں اور نقل و حمل ہوتی تھیں اب عوامی سطح پر بہت محدود سرگرمیاں ہو رہی ہیں۔

تہران میں مقیم سینئر صحافی ڈاکٹر راشد نقوی نے وائس امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس روز کے آغاز کے موقع پر مشہد میں واقع امام کے روضے پر بہت بڑی تعداد میں لوگ صبح کے وقت جمع ہوتے ہیں اور دعائیں کی جاتی ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ روضہ بند ہے اور کسی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اسلئے بند دروازوں کے پیچھے صرف دعائیں پڑھنے والے ہونگے اور لوگ صرف ٹیلیویژن پر ان کو دیکھ اور سن سکیں گے۔

انہوں بتایا کہ بیشتر مساجد میں آئمہ کی ان حالات میں عدم موجودگی کے سبب با جماعت نمازوں کا سلسلہ بھی جاری نہیں ہے اور جمعے کے اجتماعات بھی منسوخ کر دئے گئے ہیں۔

اسی طرح عراق میں بھی اگرچہ کربلا اور نجف تین روز کی بندش کے بعد، جس دوران ان علاقوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لئے دواؤں کا اسپرے کیا گیا، کھول دیا گیا ہے۔ لیکن پروازوں کی منسوخی کے باعث زائرین وہاں بالکل نہیں پہنچ رہے ہیں- ان مقامات کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ حاضری دینے والے نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ادھر عراق کے سب سے بڑے رہنما آیت اللہ سیستانی نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ اگر کرونا وائرس سے بچانے کے لئے اجتماعات سے منع کیا جائے تو ان اجتماعات سے پرہیز لازم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG