رسائی کے لنکس

کویت: جاسوسی کے الزام میں ایرانی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم


کویت میں ایرانی سفارت خانہ، فائل فوٹو

ایران کے سرکاری خبررساں ادارے اثنا نے کہا ہے کہ کویت نے اپنے ملک میں ایران کے 19 سفارت کاروں میں سے صرف 4 کا عملہ رکھنے کی اجازت دی ہے۔

کویت نے ایرانی سفیر اور 14 دوسرے سفارت کاروں کو جاسوسي اور دہشت گردی کے ایک سیل سے مبینہ تعلق کے إلزام پر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

ایران اور کویت کے میڈیا کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ اس اقدام سے دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔

کویت نے ایک عدالتی فیصلے کے بعد جس نے خلیجی عرب ریاست اور تہران کے درمیان تناؤ میں اضافہ کیا ہے، ایران کے ثقافتی اور فوجی مشنز سے بھی اپنے دفتر بند کرنے کے لیے کہا ہے۔

ایران کے سرکاری خبررساں ادارے اثنا نے کہا ہے کہ کویت نے اپنے ملک میں ایران کے 19 سفارت کاروں میں سے صرف 4 کا عملہ رکھنے کی اجازت دی ہے۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کے لیے 45 دن دیے گئے ہیں جب کہ کچھ ذرائع کے مطابق یہ مدت 48 دن ہے۔

کویت کی جانب سے ایرانی سفارت کاروں کا ملک سے اخراج غیر معمولی اقدام ہے کیونکہ کویت خطے کے تمام ملکوں سے بہتر تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے ۔ تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ کویت نے پہلی بار کسی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

کویت کے قائم مقام وزیر اطلاعات شیخ محمد المبارک الصباح نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف یہ کارروائی سفارتی قواعد اور جنیوا کنونشن کے مطابق کی گئی ہے۔

سعودی عرب جس نے پچھلے سال ایران میں اپنے سفارتی مشنز پر ایرانی مظاہرین کے حملوں کے بعد اس سے تعلقات منقطع کر دیے تھے، اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبررساں ادارے اپس پی اے نے وزارت خارجہ کے ایک بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی بادشاہت بردار ملک کویت کی جانب سے ایرانی سفارتی مشن کے خلاف اس اقدام کا خیر مقدم کرتی ہے۔

پچھلے سال کویت نے 23 افراد کو ایران اور لبنانی شیعہ گروپ حزب اللہ کے لیے جاسوسي کرنے کے جرم میں سزا دی تھی جن میں ایک ایرانی اور باقی کویتی باشندے تھے۔ یہ مقدمہ 2015 میں ابدالی سیل پر چھاپے میں ہتھیار اور گولہ بارود پکڑے جانے پر چلایا گیا تھا۔

ایران نے اس میں کسی بھی طرح ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG