رسائی کے لنکس

ایران: میزائل پروگرام اور بیرونی فوجی مہمات کے بجٹ میں اضافہ


ایرانی پارلیمنٹ کا اجلاس، فائل فوٹو

ایران کے خبررساں ادارے ارنا کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اتوار کے روز 247 ارکان پر مشتمل ایوان میں سے 240 نے مسودے کے حق میں ووٹ دیا۔

ایران کی پارلیمنٹ نے اتوار کے روز واضح اکثریت سے اپنے ملک کے بیلسٹک میزائل پروگرام اورسپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بیرون ملک سرگرمیوں کے لیے اخراجات میں اخراجات میں اضافے کی منظوری دی۔

یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے تہران پر تازہ پابندیاں لگانے کے ردعمل میں کیا گیا۔ اس موقع پر امریکہ مردہ باد کے نعرے بھی لگائے گئے۔

ایرانی قانون سازوں کی اس منظوری کا مقصد امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر سن 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ اس کے معاہدے کو ختم کرکے دوبارہ مذاکرات کی دھمکیوں پر اپنی برہمی کا اظہار تھا۔

ایرانی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ نیا قانونی مسودہ معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی نہیں ہے۔اس منظوری سے ان دو ملکوں کے درمیان کشیدگی اور تناؤ میں مزید اضافہ ہوگا جو خلیج فارس میں ایک دوسرے کے سامنے شدید تناؤ کی حالت میں ہیں۔

ایران کے خبررساں ادارے ارنا کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اتوار کے روز 247 ارکان پر مشتمل ایوان میں سے 240 نے مسودے کے حق میں ووٹ دیا۔

اس بل کو نظر ثانی کے لیے راہنما کونسل کے پاس بھیجا جائے گا اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہاں سے اسے منظوری مل جا ئے گی۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس ارغچی نے کہا ہے کہ صدر حسن روحانی کی اعتدال پسند حکومت اس بل کی حمایت کرے گی۔

بل کے تحت مختلف پراجیکٹس کے لیے 80 کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کی جائے گی جن میں وزارت دفاع اور خفیہ ایجنسیوں کے منصوبے بھی شامل ہیں۔جن اداروں کو اضافی فنڈز فراہم کیے جائیں گے ان میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس بھی شامل ہے جو جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت میں عراق اور شام میں لڑ رہی ہے۔ یہ فورس ایران کی معمول کی فوج سے الگ حیثیت رکھتی ہے اور صرف ایران کے راہنمائے اعلی آیت علی خامہ ای کو جواب دہ ہے۔

اس بل کےتحت امریکی فوج ، اس کے سیکیورٹی اداروں اور ان کے کمانڈروں کے ویزوں اور سفر پر بھی پابندی لگائی گئی ہے جنہوں نے شام میں القاعدہ کی شاخ کے جنگجوؤں کو جو داعش کے نام سے کام کر رہے ہیں، رقوم فراہم کیں ہیں، انٹیلی جینس معلومات دیں انہیں لاجسٹک اور تربیتی امور میں مدد مہیا کی۔

ایران کے عہدے دار اکثر امریکہ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ ان دونوں گروپوں کے ساتھ شامل ہے۔ جب کہ امریکہ کا کہنا کہ کہ وہ مشرق وسطی میں داعش اور القاعدہ کے خلاف بھرپور فوجی مہم چلا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس مہینے کے شروع میں ایک بل پر دستخط کیے تھے جس میں ایران پر نئی پابندیوں کا نفاذ بھی شامل تھا۔ ان پابندیوں پر ایران میں بہت شور اٹھا اور ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے صدر ٹرمپ پر جوہری معاہدے کو ختم کرنے کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG