رسائی کے لنکس

logo-print

ایران میں زیر زمین میزائل ذخیرہ کرنے کے نئے مقام کا افتتاح


ایران کا ایک ایٹی ری ایکٹر

ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب نے زیرِ زمین میزائل ذخیرہ کرنے کے ایک نئے مقام کا افتتاح کیا ہے۔ پیر کے روز ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے اس خبر کو نشر کیا۔

خبر میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل حسین سلامی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کروز اور بلیسٹک میزائلوں سے ایرانی بحریہ کی طاقت میں مزید اضافہ ہو گا۔ ٹیلی وژن کی رپورٹ میں دکھائی جانے والی فوٹیج میں کئی میزائل کسی بند جگہ پر پڑے نظر آ رہے ہیں جو کہ کسی زیر زمین مقام سے مشابہہ ہے۔

تاہم خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ مقام کس جگہ پر ہے اور ذخیرہ کئے گئے میزائلوں کی تعداد کتنی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق، 2011 سے، ایران نے ملک بھر میں سٹریٹجک اہمیت والی آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین فوجی مقامات تعمیر کرنے کے دعوے کئے ہیں۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے میزائل دو ہزار کلو میٹر یعنی بارہ سو میل تک مار کر سکتے ہیں، جس میں اسرائیل سمیت مشرق وسطیٰ کے زیادہ تر علاقوں کا احاطہ ہوتا ہے۔

امریکہ، سابق صدر ٹرمپ کے دور میں ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے الگ ہو گیا تھا، اور اس کی جانب سے ایران پر جوہری اس سمجھوتے کی بتدریج خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کئے گئے تھے۔ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی، ایران کے میزائل پروگرام سمیت اس کے جوہری پروگرام کو ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔

گزشتہ جولائی کو پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک نقلی طیارہ بردار امریکی بیڑے کے خلاف زیر زمین بیلسٹک میزائلوں کی ایک مشق کی تھی، جس کا مقصد اپنے زیر زمین مقامات کے نیٹ ورک میں میزائلوں کی تنصیب کو اجاگر کرنا تھا۔

ایران کا کہنا ہے کہ عراق کے ساتھ سن 1980 کی خون ریز جنگ کے بعد، جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے شہروں پر میزائل داغے تھے، ایران نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو اپنے بچاؤ کے لئے تیار کیا ہے, زیر زمین سرنگیں ان ہتھیاروں کی حفاظت میں مدد دیتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG