رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا عراق سے رواں ماہ 2200 فوجی واپس بلانے کا اعلان


فائل فوٹو

امریکی فوج کی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل کینتھ فرانک مکنزی نے کہا ہے کہ رواں ماہ عراق سے 2200 فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا اور افغانستان میں بھی نومبر تک چار ہزار پانچ سو فوجی باقی رہ جائیں گے۔

بدھ کو وائس آف امریکہ اور دیگر دو میڈیا اداروں کو انٹرویو کے دوران جنرل مکنزی نے کہا کہ ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ افغانستان سے بعض فوجیوں کو نومبر تک واپس بلا لیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان میں قابض فورسز کے بجائے وہاں جزبہ خیر سگالی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ہمارے اسٹریٹیجک مفادات اس ملک سے وابستہ ہیں۔

اُن کے بقول افغانستان میں ہمارے مفادات ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ افغان سرزمین سے القاعدہ اور داعش جیسی تنظیمیں وہاں سے امریکہ پر حملہ آور نہ ہوں۔

جولائی میں سینٹرل کمان کے کمانڈر نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے بین الافغان مذاکرات کی ضرورت ہے اور امریکہ کو یقین کر لینا چاہیے کہ افغانستان میں فوج کی تعداد میں کمی کے بعد طالبان وہاں داعش اور القائدہ کو پنپنے نہیں دیں گے۔

جنرل مکنزی سے جب سوال کیا گیا کہ افغانستان میں اب کیا تبدیل ہوا ہے؟ اس پر انہوں نے اعتراف کیا کہ طالبان نے اب تک یہ ثابت نہیں کیا کہ وہ القاعدہ سے تعلقات ختم کر چکے ہیں اور وہ مسلسل افغان فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس سے قبل امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے گزشتہ ماہ 'فاکس نیوز' کو ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ امریکہ نومبر کے اختتام تک افغانستان سے پانچ ہزار فوجیوں کے انخلا کا ارادہ رکھتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے تحت امریکہ افغانستان سے 2021 تک اپنے تمام فوجیوں کا انخلا مکمل کر لے گا۔ معاہدے کی رو سے اس عمل کے دوران طالبان امریکی فورسز کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔

دوسری جانب طالبان افغان سیکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ طالبان اور افغان فورسز کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے دوران دونوں جانب متعدد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی

جنرل میکنزی نے بدھ کو عراق کے دورے سے قبل اعلان کیا کہ عراق میں فوجیوں کی تعداد 5200 سے گھٹا کر تین ہزار کر دی جائے گی۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ عراق میں فوجیوں کی تعداد میں کمی سے وہاں موجود امریکی فوجیوں کے تحفظ کی صلاحیتوں میں کمی واقع نہیں ہو گی۔

جنرل میکنزی نے کہا کہ وہ فوجیوں کی واپسی سے متعلق مزید تفصیلات میں نہیں جائیں گے البتہ صرف یہ بتانا چاہیں گے کہ فوجیوں کی تعداد میں کمی سے عراق میں موجود چار بیسز پر میزائل ڈیفنس سسٹم اور شارٹ رینج میزائل کی صلاحیت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

ایران کی جانب سے عراق میں امریکی بیسز کو نشانہ بنائے جانے کے سوال پر جنرل میکنزی نے کہا کہ ایران کے کسی بھی حملے میں امریکہ اور عراقی سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اُن کے بقول فوجیوں کی تعداد میں کمی کا فیصلہ عراقی فورسز کی آپریشن کی صلاحیتوں میں اضافے کو دیکھنے کے بعد کیا گیا ہے۔ عراق میں بقایا رہ جانے والے امریکی فوجی عراقی افواج کی تربیت کا کام جاری رکھیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG