رسائی کے لنکس

logo-print

ایران جوہری معاہدہ صدارتی امیدوار کی نامزدگی مہم کا موضوع بحث


امریکی کانگریس میں 17 ستمبر کو اس معاہدے کی توثیق یا تردید پر رائے شماری ہونے جا رہی ہے ۔ صدر اوباما یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر اسے مسترد کیا گیا تو اپنا ویٹو کا صوابدیدی اختیار استعمال کریں گے۔

ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدہ ان دنوں امریکہ کے صدارتی امیدوار کی نامزدگی کی مہم کے دوران خاصا اہمیت اختیار کر چکا ہے اور تین اہم ریاستوں (فلوریڈا، اوہائیو اور پینسلوینیا) میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس معاہدے پر اتفاق کرتی دکھائی نہیں دیتی۔

یہ بات کوئنیپیاک یونیورسٹی کی طرف سے ایک حالیہ جائزہ رپورٹ میں بتائی گئی۔

اپنی اپنی جماعت کی طرف سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے میں کوشاں امیدوار جوہری معاہدے پر اپنا اپنا موقف پیش کر رہے ہیں۔

نامزدگی حاصل کرنے کی مہم کے دوران امیدوار لوگوں سے میل ملاقاتیں کر رہے ہیں ان کے ساتھ مل کر ہلا گلا کر رہے ہیں لیکن اسی دوران یہ سنجیدہ موضوع بھی زیر بحث آتا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے باز رکھنے کے لیے سب سے بہترین طریقہ کیا ہے۔

ریپبلکنز کی طرف اس معاہدے کی شروع ہی سے مخالفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔

اس جماعت کی طرف سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے والے امیدواروں میں سرفہرست ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس معاہدے پر کھل کر تنقید کرتے ہیں۔

"ہم نے ایران کے ساتھ یہ بھیانک معاہدہ کیا، جو ایک تضحیک ہے اور جو کچھ بالآخر اس سے ہو گا اس کے تناظر میں ویسے یہ بدترین معاہدوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔"

لیکن این بی سی کے پروگرام "میٹ دی پریس" میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا یہ موقف سامنے آیا کہ وہ معاہدوں اور سمجھوتوں کے بارے میں بہت ماہر ہیں اور وہ یہ دیکھ سکتے ہیں ایران کے پاس دھوکہ دینے کا موقع نہ ہونے کے برابر ہے۔

نامزدگی کی دوڑ میں شامل ایک اور ریپبلکن مائیک ہوکابی نے حال ہی میں اسرائیل کا دورہ کیا جہاں انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے موقف کو ہی دہرایا اور ایران سے معاہدے کو اسرائیل اور امریکہ دونوں کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔

وسکونسن کے گورنر اور ریپبلکن کی طرف سے نامزدگی کے امیدوار اسکاٹ والکر کے خیالات بھی اس سے مختلف نہیں ہیں۔

"بطور صدر میں پہلے ہی روز ایران کے ساتھ معاہدہ ختم کر دوں گا، اس پر پابندیاں دوبارہ نافذ کر دوں گا۔ کانگریس کے ساتھ مل انھیں مزید بڑھاؤں اور اپنے اتحادیوں کو بھی ایسا کرنے پر قائل کروں گا۔"

فلوریڈا کے سابق گورنر اور ایک اور امیدوار جیب بش کچھ محتاط دکھائی دیتے ہیں۔

"ایک چیز یہ کہ میں پہلے ہی دن اس معاہدے کو نہیں پھاڑوں گا۔ لیکن شاید آپ کو اپنے اتحادیوں سے پہلے بات کرنی پڑے اور اپنی ٹیم کو تیار کرنا پڑے۔"

دوسری طرف ڈیموکریٹس کی اکثریت ایران کے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کی حامی ہے۔

اس جماعت کی طرف سے نامزدگی کی دوڑ کے دو اہم امیدوار ہلری کلنٹن اور برنیئے سینڈرز معاہدے کی حمایت کرتے ہیں۔

ہلری کلنٹن کہتی ہیں کہ "یہ معاہدہ جوہری پروگرام پر قابو پانے کے لیے ہے، لیکن ہمیں اب بھی ایران کے برے برتاؤ اور اقدام پر بہت سے تحفظات ہیں۔"

ورماؤنٹ سے ڈیموکریٹ سینیٹر سینڈرز بھی یہ کہہ کر اس معاہدے کا دفاع کرتے ہیں کہ "یہ بہترین تو نہیں لیکن ایران سے لڑائی کا واحد حقیقی متبادل ہے۔"

بعض ڈیموکریٹس کی طرف سے بھی اس معاہدے کی مخالفت دیکھنے میں آ چکی ہے۔

امریکی کانگریس میں 17 ستمبر کو اس معاہدے کی توثیق یا تردید پر رائے شماری ہونے جا رہی ہے ۔ صدر اوباما یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر اسے مسترد کیا گیا تو اپنا ویٹو کا صوابدیدی اختیار استعمال کریں گے۔

XS
SM
MD
LG