رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کے جوہری پروگرام پر جان کیری کا فرانسیسی ہم منصب سے تبادلہ خیال


امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کے اور لوراں فیبوس کے خیال میں کسی بھی ملک کے لیے یہ ثابت کرنا ’’بہت آسان‘‘ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ وہ اور ان کے فرانسیسی ہم منصب لوراں فیبوس نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایران پرامن جوہری پروگرام تو جاری رکھ سکتا ہے تاہم یہ ’’بم بنانے کا راستہ نہیں ہونا چاہیئے‘‘۔

جان کیری کی عمان میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سہ فریقی اجلاس میں شرکت سے قبل پیرس میں اپنے فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جاری مذاکرات اور دوسرے معاملات کے بار ے میں تبادلہ خیال کیا۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کے اور لوراں فیبوس کے خیال میں کسی بھی ملک کے لیے یہ ثابت کرنا ’’بہت آسان‘‘ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ اور فرانس کا متفقہ موقف ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بحران کو 24 نومبر کی ڈیڈ لائن سے قبل ہی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

جان کیری نے کہا کہ’’ہم اس کوشش میں باہم جڑے ہوئے ہیں، اور ہم اس کا ایک کامیاب راستہ ڈھونڈنے کے لیے آئندہ ہفتوں میں مکمل طور پر مل کر کام کریں گے‘‘۔

اتوار کو جان کیری، ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور یورپین یونین کے نمائندہ کیتھرین ایشٹن عمان میں ہونے والے مذاکرات میں اس بارے میں پیش رفت کی کوشش کریں گے۔

ایران کا اصرار ہے کہ اسے یورینیم کی افژودگی کا حق حاصل ہے۔ مغربی طاقتوں کی طرف سے اس تشویش کا اظہار کیا جا چکا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔

جان کیری کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی نے مل کر ایران کے لیے ایک ایسا طریقہ کار تجویز کیا ہے جو تہران کے لیے اپنے مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہو گا۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’ہم یہ دیکھیں گے کہ ایران اپنے اس موقف پر قائم رہتا ہے کہ وہ دنیا کو یہ ثابت کرنے پر تیار ہے کہ اس کا پروگرام پرامن ہے۔‘‘ اُنھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے سب کو جرات مندانہ اور سخت فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ ’’وہ فیصلے کرنے کا اب وقت آ گیا ہے‘‘۔

XS
SM
MD
LG