رسائی کے لنکس

logo-print

آٹھ ماہ کے تعطل کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات


علی اکبر صالحی

یورپی یونین کے عہدے داروں نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ مذاکرات کی نئی تاریخ اور مقام کے بارے میں کئی ہفتوں سے جاری گفتگو کے دوران ایران نے ہر طرح کے تاخیری حربے استعمال کیے

ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر براہ راست مذاکرات کی امریکی پیش کش قبول کرنے پر رضامند ہے اور یہ کہ وہ اِسی ماہ کے اواخر میں عالمی طاقتوں کے ساتھ دوبارہ بات چیت کا آغاز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اتوار کے روز ایرانی وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے کہا کہ امریکہ، چین، روس، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی چھ عالمی طاقتوں کی طرف سے 25 فروری کو قزاقستان میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ ’خوش آئند ہے‘۔

یورپی یونین کےپالیسی ساز ادارے کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کا دفتر، جو اِن چھ عالمی طاقتوں کی طرف سے کوششوں سے متعلق رابطے کا کام کرتا ہے، اُس کی طرف سے ایک خاتون ترجمان نےقزاقستان میں بات چیت کے دوبارہ آغاز کی خبر کی تصدیق کی ہے۔

مایا کوسک نے اتوار کے روز کہا کہ ’یہ ایک اچھی خبر ہے‘ کہ وزیر خارجہ نے آخر کار اس بات کی تصدیق کردی ہے؛ اور یہ کہ اُنھیں امید ہے کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم بھی اِس کی تصدیق کرے گی۔

یورپی یونین کے عہدے داروں نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ مذاکرات کی نئی تاریخ اور مقام کے بارے میں کئی ہفتوں سے جاری گفتگو کے دوران ایران نے ہر طرح کے تاخیری حربے استعمال کیے۔

صالحی نےایک روز قبل امریکی نائب صدر جو بائیڈن کی طرف سے پیش کردہ اِس تجویز کو ’پیش رفت‘ قرار دیا۔

اُنھوں نے کہا تھا کہ اگر ایران مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے تو امریکہ اُس کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہے۔

بائیڈن میونخ میں سلامتی سے متعلق بین الاقوامی سالانہ اجلاس کے ’پینل ڈسکشن‘ سےمخاطب تھے۔

ایران اور ’پی فائیو پلس ون‘ گروپ نے گذشتہ برس مذاکرات کے تین دور کیے، جن کا مقصد ایران کے جوہری عزائم سے متعلق معاملے پر تعطل کا خاتمہ لانا تھا، جن کے بارے میں ایران کا دعویٰ ہے یہ پُرامن مقاصد کے لیے ہیں۔ تاہم، مغرب کو شبہ ہے کہ اِن کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت تک رسائی کا حصول ہے۔
XS
SM
MD
LG