رسائی کے لنکس

logo-print

ایران اور عالمی طاقتوں کے مذاکرات جاری


ایران یورینیم افزودگی کو اپنا "حق" قرار دیتے ہوئے اسے جاری رکھنے پر مصر ہے جب کہ مغربی ممالک ایران کو اس کی غیر مشروط اجازت دینے پر آمادہ نہیں۔

یورپی یونین نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کے دوسرے روز "بامقصد بات چیت" ہوئی ہے جس کے بعد دونوں جانب کے اعلیٰ حکام مجوزہ معاہدے کی "تفصیلات پر گفتگو" کر رہے ہیں۔

یورپی ممالک کی نمائندہ تنظیم کے ایک ترجمان مائیکل مین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ 'ٹوئٹر' پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مذاکرات کے کمرے میں عالمی طاقتوں کی اعلیٰ مذاکرات کار اور یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران کیتھرین ایشٹن اور ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف کے زیرِ قیادت فریقین بات چیت میں مصروف ہیں۔

ترجمان کے مطابق مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کی سہ پہر ہوگا۔

بدھ کو مذاکرات کے پہلے روز ابتدائی نشست کے بعد مائیکل مین نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ فریقین نے ان اختلافات کو دور کرنے پر اتفاق کیا ہے جن کے باعث 10 روز قبل ہونے والی بات چیت کے دوران معاہدہ ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔

تاہم ترجمان کے بقول دونوں فریق حالیہ مذاکرات میں مجوزہ معاہدہ طے پانے کی یقین دہانی کرانے سےگریزاں ہیں۔

مذاکرات میں شریک اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان – امریکہ، برطانیہ، روس، چین اور فرانس – اور جرمنی ایران کو ایک عبوری معاہدے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے تحت ایرانی حکومت یورینیم کی خاص سطح تک افزودگی روک دے گی اور عالمی معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے تفصیلی جائزے کی اجازت دے گی۔

ان اقدامات کے عوض عالمی طاقتوں نے ایران کو اس پر عائد بعض معاشی پابندیاں نرم کرنے کی پیش کش کی ہے۔

لیکن ایران یورینیم افزودگی کو اپنا "حق" قرار دیتے ہوئے اسے جاری رکھنے پر مصر ہے جب کہ مغربی ممالک اسے ایران کا "حق" تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔

عالمی طاقتوں کا اصرار ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو عالمی معائنہ کاروں کے لیے کھول دے تو اسے بھی دیگر ممالک کی طرح سول مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

جمعرات کو ایک ٹی وی انٹرویو میں فرانس کے وزیرِ خارجہ لوغاں فیبیوس نے کہا ہے کہ ایران کو پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا پورا حق ہے لیکن اسے جوہری بم تیار کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا اور اس پر مذاکرات میں شریک تمام چھ عالمی طاقتیں متفق ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق جمعرات کو ہونے والے مذاکرات کے دوران میں فرانس اور ایران کے مندوبین کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ فرانس نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سخت موقف اپنا رکھا ہے جس کے باعث حالیہ مہینوں میں پیرس حکومت کے اسرائیل اور خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے جو ایران کے جوہری پروگرام سے سب سے زیادہ خائف ہیں۔
XS
SM
MD
LG