رسائی کے لنکس

logo-print

ایرانی طیاروں کو ایندھن کی فراہمی جاری


ایران نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ گذشتہ ہفتے اس پر لگائی گئی نئی امریکی پابندیوں کے بعد دوسرے ممالک کے ہوائی اڈوں پر ایرانی طیاروں کو ایندھن فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے منگل کے روز کہا ہے کہ ”اس قسم کی کوئی پابندیاں عائد نہیں کی گئی ہیں“۔

ترجمان نے الزام لگایا ہے کہ اس سلسلے میں منظرِ عام پر آنے والی تمام اطلاعات ایران کے خلاف ”پروپیگنڈا جنگ“ کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ بعض اطلاعات کے مطابق جرمنی، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کے ہوائی اڈوں پر ایرانی طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا لیکن جرمن حکام کا کہنا ہے کہ ایندھن کی فراہمی پر کوئی بندش نہیں لگائی گئی ہے جب کہ برطانوی حکام بھی ایسے کسی اقدام سے نا واقف ہیں۔ البتہ متحدہ عرب امارات میں تیل کی ایک پرائیوٹ کمپنی نے مبینہ طور پر ایرانی طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن سرکاری سطح پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے پچھلے ہفتے ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے سلسلے میں تحران پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کی منظوری دی تھی جس کا ہدف توانائی اور بینکاری کے شعبے بنے ہیں۔

دریں اثناء چین نے امریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہٹ کر انفرادی طور پر اقدامات نہیں کرنے چاہیئں۔

منگل کے روز چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا ایک پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ چین سمجھتا ہے کہ گذشتہ ماہ ایران کے خلاف اقوام متحدہ میں منظور کی گئی قرارداد پر پوری طرح، سنجیدگی کے ساتھ اور صحیح طریقے سے عمل درآمد ہونا چاہیئے ۔ ان کے مطابق پابندیوں کو مزید سخت بنانے کے لیے اس قرارداد کی عمداً تشریح نہیں کی جا سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG