رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کا یورینیم کی افزودگی میں اضافے اور جدید سینٹری فیوجز بنانے کا اعلان


ایران نے امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے یورپی ممالک کو 60 روز کا وقت دیا ہے۔ (فائل فوٹو)

ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2015 میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی 20 فی صد سے بڑھانے سمیت جدید سینٹری فیوجز بھی تیار کرے گا۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے حال ہی میں جوہری معاہدے کے ضامن یورپی ممالک کو مزید 60 روز کا الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ اسے امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچائیں۔

امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کے باعث اس کی تیل برآمدات میں 80 فی صد تک کمی آئی ہے۔

ایران کی جوہری ایجنسی کے ترجمان بہروز کمالوندی نے ہفتے کو نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ ایران نے جوہری تحقیق کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ جدید سینٹری فیوجز کی تیاری پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان 2015 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ایران کو جوہری پروگرام محدود کرنے کے عوض تیل برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم گزشتہ سال امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کو ناقص قرار دیتے ہوئے یکطرفہ طور پر اس سے دستبردار ہو گئے تھے۔

رواں سال مئی سے امریکہ نے ایران پر دباؤ ڈال رکھا ہے کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق مذاکرات کے علاوہ خطے میں عسکریت پسند گروپوں کی حمایت چھوڑ دے۔

ایران نے یورپی ممالک سے کہا ہے کہ اگر وہ اسے امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچا کر تیل برآمد کرنے کی اجازت دلوائیں تو وہ دوبارہ جوہری معاہدے کی پاسداری شروع کر دے گا۔

ایران کا اصرار رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ (فائل فوٹو)
ایران کا اصرار رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ (فائل فوٹو)

جوہری معاہدے کے تحت ایران 3.67 فی صد تک سول مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کر سکتا ہے۔ جولائی میں اقوام متحدہ کی جوہری معائنہ ٹیم نے انکشاف کیا تھا کہ ایران 4.5 فی صد تک یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔

ایرانی عہدیدار کمالوندی کے مطابق ایران اب یورینیم کی شرح افزودگی کو 20 فی صد سے بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے بقول وہ یورپی ممالک کا انتظار کریں گے کہ وہ کب اس معاملے میں مداخلت کر کے ایران کو امریکی پابندیوں کے اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔

جوہری معاہدے کے تحت یورینیم افزودگی میں استعمال ہونے والے سینٹری فیوجز کی تعداد گھٹا کر 6 ہزار کر دی گئی تھی۔ جب کہ یورینیم افزودگی کی شرح بھی انتہائی کم کر دی گئی تھی۔

بہروز کمالوندی کا کہنا ہے کہ ایران اب جدید سینٹری فیوجز استعمال کرتے ہوئے زیادہ مقدار میں یورینیم افزودہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی(آئی اے ای اے) کو ایران کے جوہری پروگرام کے معائنے کی مکمل رسائی حاصل ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے تحت امریکہ نے گزشتہ برس اس وجہ سے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی کہ ایران معاہدے کے مطابق مبینہ طور پر خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہا تھا۔

امریکہ کی اس معاہدے سے علیحدگی کی وجہ سے ایرانی خام تیل کی فروخت بھی متاثر ہوئی تھی۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے بدھ کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے یورپی ممالک کو مزید دو ماہ کی مہلت دی تھی۔

’ایران آگ سے کھیل رہا ہے‘
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:09 0:00

ایران کے صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب فرانس کی جانب سے ایران کو اس سال کے آخر تک 15 ارب ڈالرز کی رقم بطور کریڈٹ رکھنے کی پیش کش کی گئی تھی۔

فرانسیسی حکام نے اس رقم کے بدلے ایران سے یقین دہانی مانگی تھی کہ وہ جوہری معاہدے پر کاربند رہے گا۔

صدر روحانی نے مہلت میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ایران نے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی تیاری کر رکھی ہے۔

خلاف ورزی کے حوالے سے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اس کے غیر معمولی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران 2015 میں امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد سالہا سال کی اقتصادی تنہائی سے باہر آیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG