رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کی یورپی ممالک کو جوہری معاہدہ بچانے کے لیے دو ماہ کی مہلت


ایران کے صدر حسن روحانی۔(فائل فوٹو)

ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکہ اور ایران کے درمیان 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے یورپی ممالک کو مزید دو ماہ کی مہلت دے دی ہے۔

صدر روحانی نے مہلت میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ ایران نے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی تیاری کر رکھی ہے جس کے غیر معمولی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران کے صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس کی جانب سے ایران کو اس سال کے آخر تک 15 ارب ڈالر کی رقم بطور کریڈٹ رکھنے کی پیش کش کی گئی تھی۔ فرانسیسی حکام نے اس رقم کے بدلے ایران سے یقین دہانی مانگی تھی کہ وہ جوہری معاہدے پر کاربند رہے گا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے یورپ کی جانب سے 15 ارب ڈالر بطور کریڈٹ یا تیل کی فروخت کی مد میں رکھنے کی پیش کش پر غور کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم، ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے 'پریس ٹی وی' کے مطابق ایران نے یہ پیش کش مسترد کر دی ہے۔

ایران 2015 میں امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد سالہا سال کی اقتصادی تنہائی سے باہر آیا تھا۔ جوہری معاہدے کے ضامن برطانیہ سمیت یورپی ممالک بھی تھے. تاہم، گزشتہ سال صدر ٹرمپ نے اس جوہری معاہدے کو ناقص قرار دیتے ہوئے اس سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

صدر ٹرمپ نے رواں سال ایران سے تیل درآمد کرنے والے آٹھ بڑے ممالک کو بھی ایرانی خام تیل درآمد کرنے سے روک دیا تھا۔ ایران نے بھی ردعمل کے طور پر جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی تھی۔

ایران نے جوہری معاہدے کے ضامن یورپی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اسے امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچائیں اس ضمن میں ایران نے ان یورپی ممالک کو دو ماہ کا وقت دیا جس میں مزید توسیع کر دی گئی ہے۔

امریکی پابندیوں کے بعد ایران کی تیل برآمدات میں 80 فی صد کمی آئی ہے۔
امریکی پابندیوں کے بعد ایران کی تیل برآمدات میں 80 فی صد کمی آئی ہے۔

ایران کے صدر کا کہنا تھا کہ "میرا نہیں خیال کہ ہم ایک دو روز میں کسی نتیجے کی توقع کریں۔ اس لیے میں یورپی ممالک کو مزید 60 روز کا وقت دیتا ہوں کہ وہ اس مسئلے میں مداخلت کریں۔"

صدر روحانی کا مزید کہنا تھا کہ اس دوران ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کا عمل جاری رکھے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا تیسرا مرحلہ سب سے اہم اور غیر معمولی اثرات کا حامل ہوگا۔

اس سے قبل ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے فرانس کی پیش کش پر غور کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

عباس عراقچی نے کہا تھا کہ یا تو یورپ ایران سے خام تیل خریدے یا ایڈوانس کے طور پر رقم ایران کو فراہم کرے۔ تاہم، بعدازاں ایران کے پریس ٹی وی کی خبر سامنے آئی کہ ایران نے یہ پیش کش مسترد کر دی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی پابندیوں کے بعد ایران کی خام تیل کی برآمدات میں 80 فی صد کمی آئی ہے۔ جاپان، بھارت، جنوبی کوریا، تائیوان، ترکی، یونان اور اٹلی وہ ممالک ہیں جن پر امریکہ نے ایران سے تیل درآمد کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔

ٹرمپ حکومت کا یہ الزام ہے کہ ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ ایران ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG