رسائی کے لنکس

امریکہ، ایران کشیدگی کم کرنے میں کتنے سنجیدہ؟


ایک لڑکی ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی تصویر دیکھ رہی ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی طرف سے دو عراقی فوجی اڈوں پر ایک درجن سے زائد بیلسٹک میزائل داغنے کے بعد بدھ کے روز قوم سے خطاب کیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران پر زیادہ سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا اور نیٹو سے مشرق وسطیٰ میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان کے اس خطاب کو امریکہ کی طرف سے ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کے بعد کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس سے اپنے خطاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میزائلوں کے حملے کا کم ہی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’امریکی عوام کو انتہائی شکرگزار اور خوش ہونا چاہیے۔ ایرانی انتظامیہ کی طرف سے گذشتہ رات کیے جانے والے حملے میں کسی امریکی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا‘‘۔

کشیدگی کو بظاہر کم کرنے کی کوشش میں صدر ٹرمپ نے کسی فوجی اقدام کا اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے صرف ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی بات کی۔

انہوں نے مغربی طاقتوں سے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ منسوخ کر دیں اور ایک نئے معاہدے کیلئے کام کریں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک ایسا معاہدہ طے کرنا چاہیے جو زیادہ محفوظ اور پرامن ہو، اور جس کے تحت ایران کو ترقی کرنے اور خوشحالی کی طرف گامزن ہونے کے ساتھ ساتھ ان تمام امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا موقع ملے، جنہیں ابھی تک بروئے کار نہیں لایا گیا۔

تاہم، ایران کی طرف سے آج جمعرات کے روز ملے جلے اشارے دیکھے گئے۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایک اور غلطی کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کا ’’انتہائی خطرناک‘‘ جواب دیا جائے گا۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ٹویٹر کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے امریکی اقدام کے جواب میں متناسب انداز میں اپنے دفاع کی کارروائی تھی اور ایران جنگ نہیں چاہتا۔

ادھر، عراقی پارلیمان نے گذشتہ ہفتے ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں موجود 5,200 امریکی فوجیوں کو عراق سے نکالنے کے حق میں ووٹ دیا۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فوجیوں کو بہترین دوستانہ ماحول میں عراق سے واپس بلانا ممکن نہ ہوا تو عراق پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں گے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ایران کی دوسری طاقتور ترین شخصیت کو ہلاک کرنے کے حتمی جواب کے طور پر تمام تر امریکی فوجیوں کو خطے سے نکالنا ہوگا۔

ایران کی طرف سے عراق کے دو فوجی اڈوں پر میزائلوں کے حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور پینٹاگون کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کی طرف سے دانستہ طور پر ہو سکتا ہے، تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو اور ایسا کرتے ہوئے ہو سکتا ہے کہ ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کو کشیدگی کم کرنے کا موقع فراہم کیا ہو۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’ایران کے عوام اور لیڈروں سے مخاطب ہوتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ ہم آپ کیلئے بہترین مستقبل کے خواہاں ہیں، ایک ایسا مستقبل جس کے آپ حقدار ہیں۔ ایسا مستقبل جس میں ملک کے اندر خوشحالی اور دنیا بھر کے ملکوں کے ساتھ ہم آہنگی ہو۔ امریکہ ان تمام ملکوں کے ساتھ امن قائم کرنا چاہتا ہے جو اس کی خواہش رکھتے ہوں۔‘‘

ایرانی صدر حسن روحانی نے آج جمعرات کے روز برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کو فون کر کے ان سے درخواست کی کہ وہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی مذمت کریں۔ برطانوی وزیر اعظم کے دفتر نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلی فون گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیر اعطم نے حسن روحانی کو مشورہ دیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کو ختم کریں۔

بورس جانسن نے حسن روحانی کو یقین دلایا کہ برطانیہ ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری سمجھوتے کا احترام کرتا ہے اور ایران کو اس معاہدے کی مکمل طور پر پابندی کرنی چاہیے۔

اس معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک فرانس، جرمنی، چین اور روس بھی اس معاہدے کو جاری رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کی بہترین امید ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG