رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کا جوہری سرگرمیاں تیز کرنے کا فیصلہ


فائل فوٹو

ایران نے امریکہ اور یورپی ممالک سے 2015 میں ہونے والے جوہری تخفیف سے متعلق معاہدے پر عمل در آمد مزید کم کرنے کے اقدامات اور جوہری سرگرمیاں تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران نے یہ فیصلہ امریکی کی جانب سے مزید پابندیاں لگائے جانے کے پیش نظر کیا ہے۔

سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ ایران کی جوہری توانائی تنظیم ہفتے کے روز نئے اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کرے گی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کے مطابق وزیر خارجہ جاوید ظریف کی طرف سے یورپی یونین کے پالیسی چیف فیڈریکا موگرینی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنی جوہری تحقیق اور ترقی کی سرگرمیوں پر پابندی اٹھا لی ہے۔

بدھ کے روز تہران کا بیان سامنے آیا تھا کہ ایران توانائی کے منصوبوں اور جوہری پلانٹس کے لیے درکار ایندھن کی تیاری کے لیے یورینیم کی افزودگی کے عمل کو تیز کرے گا۔

سن 2015 کے جوہری معاہدے کے مطابق ایران یورینیم کی افزودگی پر محدود تحقیق اور تجربات کر سکتا ہے۔

ایران اس معاہدے کے تحت مخصوص جوہری ہتھیاروں پر تحقیق اور جوہری ترقیاتی سرگرمیوں کو آٹھ سال کے لیے محدود کرنے پر بھی رضا مند ہوا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے تحت امریکہ نے گزشتہ برس اس وجہ سے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی کہ ایران معاہدے کے مطابق مبینہ طور پر خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہا تھا۔

امریکہ کی اس معاہدے سے علیحدگی کی وجہ سے ایرانی خام تیل کی فروخت بھی متاثر ہوئی تھی۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے بدھ کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے یورپی ممالک کو مزید دو ماہ کی مہلت دی تھی۔

ایران کے صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب فرانس کی جانب سے ایران کو اس سال کے آخر تک 15 ارب ڈالرز کی رقم بطور کریڈٹ رکھنے کی پیش کش کی گئی تھی۔

فرانسیسی حکام نے اس رقم کے بدلے ایران سے یقین دہانی مانگی تھی کہ وہ جوہری معاہدے پر کاربند رہے گا۔

صدر روحانی نے مہلت میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ایران نے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی تیاری کر رکھی ہے۔

خلاف ورزی کے حوالے سے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اس کے غیر معمولی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران 2015 میں امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد سالہا سال کی اقتصادی تنہائی سے باہر آیا تھا۔

جوہری معاہدے کے ضامن برطانیہ سمیت یورپی ممالک بھی تھے۔ گزشتہ سال صدر ٹرمپ نے اس جوہری معاہدے کو ناقص قرار دیتے ہوئے اس سے یک طرفہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

صدر ٹرمپ نے رواں سال ایران سے تیل درآمد کرنے والے آٹھ بڑے ممالک کو بھی ایرانی خام تیل درآمد کرنے سے روک دیا تھا۔

ایران نے بھی ردعمل کے طور پر جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی تھی۔

ایران نے جوہری معاہدے کے ضامن یورپی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اسے امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG