رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل نے تیل کے جہاز روکے تو جواب دیں گے: ایران


فائل فوٹو

ایران کے وزیرِ دفاع نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایرانی تیل لے جانے والے بحری جہازوں کو روکنے کی کوشش کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ارنا' کے مطابق وزیرِ دفاع امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اتنی فوجی صلاحیت ہے کہ وہ اسرائیل کی کسی بھی مداخلت کا فوری جواب دے سکے۔

وزیرِ دفاع نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی ایسی کوئی بھی کوشش قزاقی تصور کی جائے گی جسے ان کے بقول عالمی برادری بھی قبول نہیں کرے گی۔

ایران کے وزیرِ دفاع کا یہ بیان اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے ایک بیان کے ردِ عمل میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ اسرائیلی بحریہ ایرانی تیل لے جانے والے جہازوں کا راستہ روک سکتی ہے۔

گزشتہ ہفتے اسرائیلی بحریہ کے افسران سے اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیل کی "اسمگلنگ" میں ملوث ہے جسے روکنے کے لیے اسرائیلی بحریہ کردار ادا کرسکتی ہے۔

تاہم اپنے ردِ عمل میں ایرانی وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ ایرانی افواج اس قابل ہیں کہ اپنے ملک کے بحری راستوں کا پوری طرح دفاع کرسکیں۔

ایرانی فضائیہ کا ایک طیارہ خلیجِ عمان میں پرواز کر رہا ہے جب کہ پسِ منظر میں ایک آئل ٹینکر لنگر انداز ہے۔ (فائل فوٹو)
ایرانی فضائیہ کا ایک طیارہ خلیجِ عمان میں پرواز کر رہا ہے جب کہ پسِ منظر میں ایک آئل ٹینکر لنگر انداز ہے۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال ایران کے ساتھ طے پانے والا وہ جوہری معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جو کئی سال کے مذاکرات کے بعد ان کے پیش رو براک اوباما کی حکومت اور پانچ دیگر عالمی طاقتوں نے ایران کے ساتھ کیا تھا۔

اس معاہدے سے نکلنے کے بعد ٹرمپ حکومت نے ایران پر اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کردی تھیں جن کا بڑا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو روکنا ہے۔

ایران اور تیل کی تجارت

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران تیل کی برآمد پر عائد ان پابندیوں سے بچنے کے لیے مختلف راستے اور حربے اختیار کر رہا ہے۔

ان میں تیل لے جانے والے جہازوں کے ناموں اوران پر لہرانے والے پرچموں کی تبدیلی، جہازوں پر موجود ان کی نقل و حرکت کا پتا دینے والے آلات میں رد و بدل اور تیل کی بیچ سمندر میں یا چھوٹی بندرگاہوں پر ایک سے دوسرے جہاز میں منتقلی جیسے حربے شامل ہیں۔

ایران دنیا میں آئل ٹینکرز کا سب سے بڑا بیڑا رکھنے والے ملکوں میں شامل ہے جن پر اس کی تیل کی تجارت کا دار و مدار ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے دھمکی دی تھی کہ ان کا ملک ایران کی تیل کی برآمد پر عائد امریکی پابندیوں کا نفاذ یقینی بنانے کے لیے کارروائی کرے گا۔ (فائل فوٹو)
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے دھمکی دی تھی کہ ان کا ملک ایران کی تیل کی برآمد پر عائد امریکی پابندیوں کا نفاذ یقینی بنانے کے لیے کارروائی کرے گا۔ (فائل فوٹو)

گزشتہ سال نومبر میں ایران کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی برائن ہوک نے ایرانی تیل لے جانے والے ٹینکروں کو "تیرتا خسارہ" قرار دیتے ہوئے عندیہ دیا تھا کہ امریکہ ان کی بین الاقوامی بندرگاہوں اور نہروں کے استعمال پر پابندی لگائے گا۔

ایرانی بحریہ کی صلاحیت

ایرانی حکام دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر امریکہ نے ایران کی تیل کی برآمدات روکنے کی کوئی کوشش کی تو وہ آبنائے ہرمز بند کردے گا جو خلیجی ملکوں سے تیل باقی دنیا لے جانے والے جہازوں کی مرکزی گزرگاہ ہے۔

ایرانی بحریہ نے حالیہ چند برسوں کے دوران اپنی استعداد میں اضافہ کیا ہے اور اب اس کے جہاز بحرِ ہند اور خلیجِ عدن تک گشت کرنے لگے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی ایرانی بحریہ نے خلیجِ عدن میں اپنے ایک آئل ٹینکر پر بحری قزاقوں کا حملہ ناکام بنایا تھا۔

ایرانی بحریہ کے برعکس اسرائیل کی بحریہ کے بیشتر آپریشنز اور اس کے جہازوں اور آب دوزوں کا گشت بحیرۂ روم اور بحیرۂ احمر تک محدود رہتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG