رسائی کے لنکس

logo-print

بحری جرائم پر آنکھیں بند نہیں رکھ سکتے: ایران


حالیہ دنوں میں امریکہ، ایران کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ (فائل فوٹو)

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطٰی میں تنہائی کا شکار ہو گیا ہے۔ خطے میں اسے ایران مخالف اتحاد تشکیل دینے میں مکمل ناکامی ہوئی ہے۔ ان کے بقول ایران کھلے سمندر میں جرائم پر آنکھیں بند نہیں رکھ سکتا۔

پیر کو تہران میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے جواد ظریف نے کہا کہ امریکہ نے بہت کوشش کی کہ وہ مشرق وسطٰی میں ایران مخالف اتحاد تشکیل دے سکے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جواد ظریف کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے حقوق سلب کرنا چاہتا ہے تاہم وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو گا۔

جواد ظریف نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل بند کر سکتا ہے۔ لہذٰا کھلے سمندر میں کسی طرح کے جرائم برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ان پر عائد پابندیوں نے جوہری مذاکرات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل امریکہ نے جواد ظریف پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ امریکہ کا موقف تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ رہبر اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کے نقش قدم پر چل رہے ہیں جو دہشت گردی کی پشت پناہی کے ایجنڈے پر گامزن ہیں۔

ایران کے پاسداران انقلاب نے چند روز قبل برطانیہ کا تیل بردار جہاز بھی پکڑ لیا تھا۔ (فائل فوٹو)
ایران کے پاسداران انقلاب نے چند روز قبل برطانیہ کا تیل بردار جہاز بھی پکڑ لیا تھا۔ (فائل فوٹو)

جواد ظریف کے بقول "کسی ملک کے وزیر خارجہ پر پابندیاں عائد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ مذاکرات کے دروازے بند کر رہے ہیں۔'

ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر ایران پر سے تیل برآمد کرنے کی پابندیاں نہ ہٹائی گئیں تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔ ان کے بقول یورپی ممالک کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے بڑی آبی گزرگاہ ہے۔ یہاں سے عالمی سطح پر 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

ایران نے گزشتہ روز ایک عراقی تیل بردار جہاز بھی پکڑ لیا تھا۔ جس کے بعد حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے قبضے میں لیے گئے آئل ٹینکرز کی تعداد تین ہو گئی تھی۔

ایران نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ تیل بردار جہاز اسمگلنگ میں ملوث تھا جسے روکنا ضروری تھا۔ جب کہ چند روز قبل برطانوی آئل ٹینکر بھی تحویل میں لیا گیا تھا ایران نے اسے برطانیہ کی جانب سے جبل الطارق میں ایرانی آئل ٹینکر قبضے میں لینے کا ردعمل قرار دیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کا 'ریاہ' نامی جہاز بھی گزشتہ ماہ آبنائے ہرمز سے لاپتا ہوگیا تھا اور خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ اسے ایران کے پاسداران انقلاب نے تحویل میں لیا ہے۔

امریکہ ایران کشیدگی برقرار

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی تھی، جب صدر ٹرمپ نے مئی کے آغاز میں ایران سے تیل درآمد کرنے والے آٹھ ممالک کا استثنٰی ختم کر دیا تھا۔

ایران نے ان ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ امریکی پابندیوں کو خاطر میں لائے بغیر اس سے تیل کی خریداری جاری رکھیں۔

ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں امریکہ نے اپنے جنگی بیڑے اور اضافی فوجی بھی مشرق وسطیٰ میں تعینات کر رکھے ہیں۔

ایران نے گزشتہ دنوں امریکہ کا ایک ڈرون طیارہ مار گرایا تھا جس کے بعد صدر ٹرمپ کے بقول، انہوں نے ایران پر حملے کا فیصلہ عین وقت پر تبدیل کر لیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG