رسائی کے لنکس

ایرانی صدر کے گرفتار بھائی ضمانت پر رہا


حسین فریدون، برادر حسن روحانی

حسین فریدون، صدر روحانی کے بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے اہم مشیر بھی ہیں اور ایران میں انہیں صدر کی "آنکھیں اور کان" کہا جاتا ہے۔

ایران میں غبن کے الزام میں گرفتار صدر حسن روحانی کے بھائی حسین فریدون کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے 'اِسنا' کے مطابق حسین فریدون کی ضمانت تہران کی ایک عدالت نے منظور کی جس کے بعد انہیں پیر کی شب رہا کردیا گیا۔

حسین فریدون، صدر روحانی کے بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے اہم مشیر بھی ہیں اور ایران میں انہیں صدر کی "آنکھیں اور کان" کہا جاتا ہے۔

ایرانی عدلیہ کے ایک ترجمان نے اتوار کو حسین فریدون کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف مالی بدعنوانی اور غبن کے کئی الزامات ہیں جن کی تحقیقات کے سلسلے میں انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

عدالتی حکام نے ضمانت کی رقم نہیں بتائی ہے البتہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے مطابق حسین فریدون کو 350 ارب ریال (93 لاکھ ڈالر) کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کیا گیا ہے۔

فریدون کی گرفتاری کو ایرانی عدلیہ اور صدر حسن روحانی کے درمیان جاری دیرینہ تنازع کا شاخسانہ قرار دیا جارہا ہے جس میں مئی میں حسن روحانی کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد شدت آئی ہے۔

ایران کی قدامت پسند عدلیہ اور اصلاح پسند صدر روحانی کے درمیان اختلافات کا اظہار آئے روز ہوتارہتا ہے اور ایرانی جج اپنے فیصلوں کے ذریعے صدر کی جانب سے سماجی قدغنوں میں نرمی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی جیسے اقدامات کو غیر موثر کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

تاحال صدر روحانی نے اپنے بھائی کی گرفتاری پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG