رسائی کے لنکس

logo-print

خلیج کی سکیورٹی: ایرانی صدر کے ہمسایہ ممالک سے مشورے


ایران کے صدر حسن روحانی۔ فائل فوٹو

ایران کے صدر حسن روحانی نے آج بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران اور خلیجی ریاستیں علاقے کا تحفظ کر سکتی ہیں اور اس کے لیے غیر ملکی فوجوں کی خطے میں موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ایران نے خلیج میں امریکہ کے میری ٹائم سکیورٹی مشن کو مسترد کرنے کے اپنے موقف کا اعادہ کیا ہے۔

ایران نے گزشتہ ماہ ایک بحری جہاز کو پکڑ لیا تھا جس پر برطانوی جھنڈا لہرا رہا تھا۔ اس کے بعد سے امریکہ نے خلیج کے علاقے میں برطانیہ کے تعاون سے میری ٹائم سکیورٹی مشن کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم، ایران نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

اس سے قبل صدر روحانی نے پیر کے روز ہمسایہ ممالک کے سربراہان کو فون کر کے آبنائے ہرمز میں امریکہ کے میری ٹائم سکیورٹی مشن کے خلاف حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

ان سربراہان میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور قطر کے امیر تمیم بن حماد الثانی شامل ہیں۔

ان رہنماؤں سے بات چیت کے دوران ایرانی صدر نے انہیں یقین دلایا کہ خلیج فارس اور خلیج اومان کی سکیورٹی ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے اور ایران اور خلیجی ممالک باہمی تعاون سے علاقے کی سکیورٹی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

دنیا بھر کے تیل کی 20 فیصد ترسیل کیلئے آبنائے ہرمز کا راستہ استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس گزرگاہ کے کنٹرول کے حوالے سے ایران اور مغربی ممالک میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

امریکہ نے تیل بردار جہازوں کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے حوالے سے ایران سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنے اتحادیوں کی حمایت سے سمندری نگرانی بڑھا دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG