رسائی کے لنکس

logo-print

یمن کے تنازع کا حل صرف سفارتکاری ہے، ایرانی صدر


حوثیوں کے زیر کنٹرول جیل سے آزاد کیے جانے والے افراد۔ فائل فوٹو

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ یمن کے تنازعے کے حل کی تلاش سے علاقے میں کشیدگی کم ہو گی اور یہ مقصد مثبت سفارتکاری سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

آج پیر کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیں اور اس کے لئے سفاتکاری کے ساتھ ساتھ علاقے کے ممالک کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور متحدہ عرب ممالک کے ساتھ ساتھ یمن کی جنگ میں شریک سعودی عرب کی سرکردگی میں اتحادی فوجوں کے درمیان تعلقات حالیہ مہینوں میں بہتر ہوئے ہیں اور ان ممالک کے سرکاری اہل کاروں نے ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے کیے ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی کے اس بیان کو خوش آئیند قرار دیا جا رہا ہے۔

یمن کی جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس کی وجہ سے ایک بڑا انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔ اس جنگ میں سعودی عرب کی سرکردگی میں اتحادی فوجیں ایران کی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے ساتھ 2015 سے نبرد آزما ہیں۔ سعودی اتحادی فوج کو امریکہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔

یمن کے دارالحکومت ثنا اور ملک کے بیشتر شمالی علاقے حوثیوں کے کنٹرول میں ہیں جب کہ یمن کے حکمران عبد ربو منصور ھادی، جنہیں سعودی اتحادی فوجوں کی حمایت حاصل ہے، 2015 سے سعودی دارالحکومت ریاض میں مقیم ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG