رسائی کے لنکس

عراق کے انتخابات پر دنیا کی نظریں لگی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں تبدیلی آ سکتی ہے


عراق میں آج پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالے گئے۔ تین سو انتیس نشتوں کے لئے سات ہزار امیدواروں میں مقابلہ ہے۔ ان انتخابات میں عراقی ووٹر داعش کے خلاف ملیشیاؤں کی جدوجہد کو تسلیم کرتے ہوئے ایک ایسی مخلوط حکومت کی امید کر رہے ہیں جو ہر طبقے اور ہر فرقے کی نمائندگی کرے۔

عراق میں ہمیشہ انتخابات کے نتائج مذہبی فرقوں کی بنیاد پر سامنے آئے ہیں۔ مگر اس مرتبہ ووٹر کوئی ایسی حکومت چاہتے ہیں جو ان کے مستقبل کو محفوظ بنائے۔

مولانا علی نقی زیدی عراق کے شہر کربلا میں ایک مذہبی رہنما ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عراق میں مذہب کی بنیاد پر ووٹ دینے کا رجحان عام ہے۔ اور چار سال سے دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے انتخاب میں کامیابی پر اپنا حق تصّور کر رہے ہیں۔

عراق میں یہ انتخابات اس کے دنوں بعد ہو رہے ہیں جب امریکہ نے ایران کے ساتھ بین الاقوامی معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ ایران وہ ملک ہے جس کے اثرات عراقی سیاست پر ہمیشہ رہے ہیں۔

ڈیلاوئیر یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر مقتدر خان کہتے ہیں کہ ایران ان انتخابات پر بھی اثر اندز ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عراق تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک مکمل شیعہ ملک کی صورت اختیار کر رہا ہے اور ایران اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ داعش کو عراق میں شکست کے بعد یہ پہلے انتخابات ہیں ۔

اب جب کہ داعش کے عسکریت پسندوں کو ملک سے نکال دیا گیا ہے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایڈوائزر ڈاکٹر زبیر اقبال کہتے ہیں کہ داعش کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ وہ شام اور عراق کی سرحد کے قریب اب بھی موجود ہیں ۔ چنانچہ امریکی فورسز کی عراق سے مکمل واپسی مستقبل قریب میں ممکن نہیں۔

عراق کے موجودہ وزیرِ اعظم اور انتخاب میں امیدوار، حیدر العبادی کا دور عراق کی خارجہ پالیسی میں اعتدال کا دور رہا ہے ۔ ایک طرف تو وہ امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات بر قرار رکھ پائے اور دوسری جانب ایران کے ساتھ بھی رابطے بحال رہیں۔

ڈاکٹر مقتدر خان کہتے ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ عراق کے تعلقات میں بہتری ایک بڑی تبدیلی ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ سعودی عرب نجف میں اپنا ایک قونصل خانہ کھول رہا ہے اور چاہتا ہے کہ زائرین زیادہ سے زیادہ حج اورعمرے کےلیے مکہ آئیں حتیٰ کہ اس کے لیے سعودی عرب مالی معاونت بھی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

دنیا عراق کے انتخابات کا بغور جائزہ لے رہی ہے

مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر ڈاکٹر زبیر اقبال کہتے ہیں کہ امریکہ، سعودی عرب اور ایران ہی نہیں ، روس اورمتحدہ عرب امارات سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کے مفادات ان انتخابات کے نتائج سے وابستہ ہیں۔

ووٹنگ مکمل ہونے کے باوجود عراق میں نئی حکومت کی مکمل تشکیل میں مہینوں لگ سکتے ہیں ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG