رسائی کے لنکس

امریکہ، روس شام میں کشیدگی بڑھانے کے خواہاں نہیں۔ لیکن، کیا وہاں اُنہی کا کنٹرول ہے؟


دمشق: تباہ ہونے والا ’مرکز برائے سائنسی تحقیق‘

گذشتہ ہفتے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے شام میں وسیع تر لڑائی بھڑکانے سے احتراز برتا، جب مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے جواب میں اُنھوں نے بشار الاسد کے خلاف ٹھیک ٹھیک نشانے پر میزائل داغے۔

لیکن، تجزیہ کار کہتے ہیں کہ آگے بہت سے خطرات لاحق ہیں جن کے سبب بڑی طاقتوں کے علاوہ ہمسایہ ملک شام کی دلدل میں الجھ سکتے ہیں جس کا نتیجہ ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست تنازع کے صورت میں سامنے آسکتا ہے، بیشک وہ اس سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے اسد کو اقتدار سے ہٹانے کا معاملہ ترک کر دیا ہو اور ترکی کی سرحد کے قریب شمال اور اردن سے ملحقہ جنوب میں چند مقامات ہیں جن پر ہی باغیوں کا کنٹرول باقی رہ گیا ہے، جب کہ شام کے تنازع کا خاتمہ دور دور تک نظر نہیں آتا۔

چھوٹے چھوٹے تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، حالانکہ جو فریق تنازع میں ملوث ہیں اُن کے لیے یہ کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے، جب کہ معاملہ طاقت کی سطح کو مضبوط کرنے پر الجھن اور جستجو کا ہے۔

متعدد غیر ملکی طاقتیں لڑائی کے بعد شام کی تعمیر نو میں نہ صرف دلچسپی رکھتی ہیں، بلکہ ایسا کرکے اپنے طویل مدتی مفاد کو قائم رکھنے کی خواہاں ہیں، اور ساتھ ہی جو علاقہ اس وقت اُن کے قبضے میں ہے وہ اُسے اپنے پاس رکھنا چاہتی ہیں۔

شمال میں ترکی امریکہ کے شامی کُرد اتحادیوں کے خلاف کارروائی تیز کرنا چاہتا ہے، اور اسے وسیع تر کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔ سنی عرب باغی اور کُرد ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے درپے ہیں، جس پر امریکہ متوجہ ہو سکتا ہے۔ ادھر، القاعدہ اب بھی ایک مہلک اور با اثر فورس ہے جب کہ داعش گروپ کی باقیات پر حاوی پانا ابھی باقی ہے۔

ترکی کے علاوہ، کافی علاقہ ایسا ہے جو ایرانی ملیشیاؤں کے قبضے میں ہے، جس میں ایران کا لبنانی ساتھی حزب اللہ شامل ہے، جس نے ملک کے کئی فوجی اڈے تعمیر کیے ہیں، جس کام میں عراق اور افغانستان سے آنے والے ایرانی قیادت والے شیعہ افراد شامل رہے ہیں۔

اور، شام میں بیرونی طاقتوں کو سب سے بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ وہ کس طرح اپنے نام پر جاری جھگڑوں سے جان چھڑائیں اور بناوٹی ساتھیوں سے کس طرح دور رہیں، جس کثیر فریقی پیچیدہ صورت حال میں ملیشیائیں،جنگجو اور ملک آ جاتے ہیں، جن سبھی کے ایجنڈے متضاد نوعیت کے ہوتے ہیں۔

امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے شام کی تین سرکاری تنصیبات کا صفایا کرنے کے لیے داغے گئے 105 کروز میزائل حملوں کے بعد مغربی سیاسی اور فوجی قائدین کو ایک سکون ملا۔ صورت حال تب بدتر ہوتی اگر سزا دینے کی اِس کارروائی کے دوران جوابی روسی کارروائی سامنے آتی۔ اور داغے گئے میزائلوں کو مار کرانے کی شامی فوج کی کوششیں بیکار ثابت ہوئیں، حالانکہ، پینٹاگان کے حکام کے مطابق، روس اور شام نے اس قسم کے دعوے ضرور کیے۔

تاہم، صورت حال بگڑنے کا خدشہ اب بھی باقی ہے، حالانکہ ہفتے کو ایسا نہیں تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، سب سے بڑا خطرہ شام میں اسرائیل اور شام کے درمیان الجھاؤ کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG