رسائی کے لنکس

عراق: شدت پسندوں کے خلاف نئی کارروائی کا آغاز


عراقی فوج نے ’شیعہ پاپولر موبلائزیشن فورسز‘ (الحشد الشعبی ) کے ساتھ مل کر بدھ کے روز ملک کے شمال مشرقی علاقے میں، جو ایران کی سرحد کے قریب کا خطہ ہے، مسلح شدت پسندوں کے خلاف اہم کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

ایک بیان میں، عراقی کارروائیوں کی مشترکہ کمان نے کہا ہے کہ آپریشن کا مقصد داعش کے باقی ماندہ لڑاکوں کا صفایا کرنا ہے، جو صوبہٴ صلاح الدین کے ضلعِ طوز خورماتو میں پھر سے مجتمع ہو رہے ہیں، جس سے قبل موصل اور حویجہ میں اس دہشت گرد گروپ کو شکست دی جا چکی ہے۔

تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’سلامتی اور استحکام کے نفاذ اور ’سلیپر سیلز‘ کا صفایا کرنے اور کارروائیوں کو جاری رکھنے کے مقصد کے حصول کی خاطر، اور طوز خورماتو کے مشرقی علاقوں میں تلاش اور صفائی کا کام کرنے کے لیے آج علی الصبح ایک کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے‘‘۔

فوج نے بتایا ہے کہ خطے میں جاری آپریشن کے دوران داعش کے 50 ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے، جب کہ تیل کے چار چشموں اور متعدد دیہات پر قبضہ خالی کرایا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی امریکی قیادت والے اتحاد کی فضائی حمایت کے ساتھ شروع کی گئی ہے، جب کہ کردستان خطے کا پیشمرگہ افواج سے قریبی رابطہ برقرار ہے۔

طوز خرماتو میں کرد کمانڈر، امام وہاب نے رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کارروائی کے اختتام پر عراقی فوج اور پاپولر موبلائزیشن فورسز کا قریبی کرد دیہات سے انخلا ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG