رسائی کے لنکس

logo-print

موصل: داعش کی شکست کے بعد مسیحی خاندانوں کی واپسی


تین برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے جب سے داعش کے شدت پسندوں نے عراق اور شام کے وسیع رقبے پر قبضہ جما رکھا تھا، پہلی بار عراقی مسیحیوں نے موصل میں کرسمس کا جشن منانے کےلیے گرجا گھر کا رخ کیا، جو جنگجوئوں کا سابقہ گڑھ رہ چکا ہے۔

عبادت گزاروں اور سرگرم مسلمان کارکنان نے بتایا ہے کہ تعطیلات کے اِن دِنوں کے دوران زخموں پر مرہم رکھنے کا کسی قدر موقع ملے گا۔

جب داعش کے شدت پسند موصل پر اپنا حکم چلاتے تھے، یہ چرچ ایک قیدخانہ تھا۔

سنہ 2014سے جب دولت اسلامیہ نے شہر پر قبضہ جمایا، تقریباً 200000 افراد پر مشتمل ساری مسیحی آبادی موصل سے چلی گئی تھی، آج یہ عبادت گزار کرسمس کا جشن منا رہے ہیں۔

ایک عبادت گزار، فادی نے بتایا کہ ''اس صورت حال نے ہمیں صدمہ پہنچایا۔ یہ ہمارا شہر ہے، ہمارے آبائو اجداد کا شہر ہے۔ ہم یہیں پیدا ہوئے، یہیں پلے بڑھے۔ ہم نے اپنے اسکول، یونیورسٹیاں، چرچ فیملیز اور احباب بنائے''۔

پچھلے نو ماہ کے دوران عراقی اور اتحادی افواج موصل کو واگزار کرنے کی جنگ لڑتی رہیں، جب 10 لاکھ لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر چلے گئے، جس میں سے تمام کے تمام مسلمان تھے۔

اس گرجا گھر کی عبادت میں شریک ہونے والوں کا کہنا ہے کہ وہ سبھی موصل واپس جانا چاہیں گے، جب اُنھیں یہ یقین ہو جائے کہ شہر اب محفوظ ہے؛ لیکن ابھی تک محض ایک درجن کے قریب مسیحی خاندان واپس آئے ہیں۔

دونوں، مسیحیوں اور مسلمانوں نے گھرجا گھر کی عبادت میں شرکت کی، اس امید کے ساتھ کہ ایک بار پھر موصل میں مختلف برادریاں پلے بڑھیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG