رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: موصل کے بعد باغیوں کا تکریت پر بھی قبضہ


سکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ منگل کی رات گئے باغی بیجی کے قصبے میں داخل ہوگئے؛ پولیس تھانے اور عدالت کی عمارت کو نذر آتش کیا، اور ملک کی سب سے بڑی تیل کی رفائنری پر تعینات 250کے قریب محافظوں کو نکال باہر کیا

عراقی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ مذہبی شدت پسند جنھوں نے منگل کے روز موصل کے شہر پر قبضہ جما لیا تھا، بغداد سے 200 کلومیٹر سےکم فاصلے پر واقع تکریت کے شہر پر قبضہ کر لیا ہے۔

اہل کاروں کا کہنا ہے کہ سنی شدت پسندوں نے موصل سے آگےجنوب کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے عراق کی سب سے بڑی تیل کی رفائنری اور تکریت کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جو سابق مطلق العنان صدام حسین کا آبائی شہر ہے۔

سکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ منگل کی رات گئے باغی بیجی کے قصبے میں داخل ہوئے۔ اُنھوں نے پولیس تھانے اور عدالت کی عمارت کو نذر آتش کیا، اور ملک کی سب سے بڑی تیل کی رفائنری پر تعینات 250کے قریب محافظوں کو نکال باہر کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ باغیوں نے انسے کہا تھا کہ اگر وہ پُرامن طور پر نکلنا چاہیں تو اُنھیں محفوظ راہداری فراہم کی جائے گی۔

عراقی سرکاری ٹیلی ویژن نے بدھ کو کہا کہ عراقی فوج کی چوتھی برگیڈ نے کچھ ہی گھنٹوں کے اندر اندر بیجی سے شدت پسندوں کا قبضہ چھڑا لیا۔

ترکی کے حکومتی ذرائع نے کہا ہے کہ موصل میں شدت پسندوں نے ترک قونصل خانے پر قبضہ کرکے 48 افراد کو یرغمال بنا لیا ہے، جن میں ترکی کے قونصل، عملے کے ارکان، محافظ اور تین بچے شامل ہیں۔

عراقی وزیر خارجہ، ہوشیار زباری نے بدھ کے روز کہا ہے کہ عراق کے رہنما ملک کو لاحق ’سنگین اور نقصان دہ‘ خطرات کا سامنا کرنے کے لیے متحد ہوجائیں۔

سرکشوں نے اِن عراقی شہروں پر قبضہ کرنے کے بعد، جنوب کی طرف فوری پیش قدمی کرکے دراصل ملک کی شیعہ قیادت والی حکومت کو اعلانیہ شکست دینے کا اعلان کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG