رسائی کے لنکس

رقہ سے داعش کے فرار کے تمام راستے بند


ڈیموکریٹک فورسز کا ایک جنگجو رقہ کے ایک مکان کی بالکونی میں کھڑا ہے۔ 27 جون 2017

کرد اور عربوں کی مشترکہ فورسزرقہ کی جانب بڑھتے ہوئےفرار ہونے کی غرض سے بنائی گئی سرنگوں تک پہنچ گئی ہیں ۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ شہر کے أرد گرد کا تما م علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے اور عسکریت پسندوں کے لیے کوئی جائے فرار نہیں ہے۔

امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ امریکی حمایت یافتہ شامی ڈیمو کریٹک فورسز نے داعش کے مضبوط گڑھ رقہ کو مکمل طور پر محاصرے میں لے لیا ہے اور یہ کہ انتہا پسندوں کے فرار کے تمام راستے مسدود کر دیے گئے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرات کے روز کہا کہ رقہ کو داعش کے کنٹرول سے آزاد کرانے کے بعد سب سے اہم یہ ہوگا کہ وہاں کے لوگوں کے لیے کسی مقامی حکومت کا انتخاب عمل میں لایا جا سکے ۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رقہ کے سقوط کا مطلب شام میں داعش کی سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ نہیں گا۔

کرد اور عربوں کی مشترکہ فورسزرقہ کی جانب بڑھتے ہوئےفرار ہونے کی غرض سے بنائی گئی سرنگوں تک پہنچ گئی ہیں ۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ شہر کے أرد گرد کا تما م علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے اور عسکریت پسندوں کے لیے کوئی جائے فرار نہیں ہے۔

وائی پی جی گروپ کے ایک کمانڈرأبو خلیل الرقاوی کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت رقہ کے مغربی کنارے پر ہیں اور حالات ہمارے حق میں ہیں اور ہر چیز ہمارے کنٹرول میں ہے۔ ہمارے جنگجوؤں کا حوصلہ بلند ہے اور خدا کا شکر ہے کہ حالات ٹھیک ہیں اور ہمارے کمانڈرز پیش قدمی کر رہے ہیں اور اب زیادہ تر علاقہ ہمارے کنٹرول میں ہے۔

جمعرات کے روز امریکہ نے کہا تھا کہ رقہ کا آزاد ہونے کے بعد سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ مقامی عہدے دار آزادی کے بعد کی سیکیورٹی اور مقامی انتظامات سنبھال لیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان حیدر نورٹ کا کہنا تھا کہ یہ مہم ایک مثبت سمت جا رہی ہے ۔ ہم اس سے خوش ہیں لیکن اس مہم کے خاتمے کے بعد حالات کی درستگی کے لیے بہت سا کام کرنا ہو گا۔

یہ خدشات موجود ہیں کہ صدر بشار الاسد کی حکومت رقہ کا کنٹرول لینے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نورٹ کہتے ہیں کہ ہم یقینی طور پر اس کی توقع نہیں کریں گے اور یہ ایک بہت زیادہ بحث طلب موضوع ہے کیوں کہ امریکہ چاہتا ہے کہ وہ اس قابل ہو جائے کہ ان علاقوں کو مستحکم کر سکے اور اپنے گھربار چھوڑ کر جانے والے شام کے لوگوں کو اپنے گھروں میں واپس لا سکے ۔ خواہ وہ شام ہو یا عراق کا شہر موصل، ہم چاہتے ہیں کہ ان لوگوں کو اپنی کمیونٹیز میں واپس لایا جا سکے۔

یہ کام اس صورت میں دشوار ہو سکتا ہے اگر مسٹر اسد شام کے کچھ حصوں کا کنٹرول حاصل کر لیں جہاں ان کی حکومت کے مخالف لوگوں کی اکثریت رہتی ہے ۔ اسد کو روس اور شام کی پشت پناہی حاصل ہے۔

داعش سے نبرد آزما امریکی قیادت کی فورسز کے ایک ترجمان کرنل ریان ڈلون نے کہا ہے کہ رقہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کے بعد فورسز دوسرے علاقوں میں داعش سے لڑائی جاری رکھیں گی اور شام حکومت کی فورسز کی موجودگی اس صورت حال کو پیچیدہ بناتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں وادئ فرات کے مرکز کی جانب جانا پڑے تو وہاں حکومتی فورسز موجود ہیں تو پھر یا تو ہمیں کوئی مختلف راستہ اختیار کرنا پڑے گا یا تصادم سے بچنے کے لیے روس کے ساتھ مل کر کوئی متبادل تلاش کرنا ہو گا۔

ایک اور مسئلہ ترکی ہے۔ انقرہ عسکریت پسندوں سے لڑنے والی کرد ملیشیاؤں کے لیے امریکی حمایت کا ا س اندیشے کے تحت سخت مخالف ہے کہ وہ آزاد کرستان کی تشکیل کے لیے ترک کردوں کے ساتھ شامل ہو جائیں گی ۔ امریکہ شام کے ساتھ ترک سرحد پر کچھ فورسز تعینات کر چکاہے تاکہ کرد مورچوں پر ترک فضائی حملوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG