رسائی کے لنکس

logo-print

تکریت میں عراقی فورسز کی پیش قدمی، انسانی حقوق کی پامالی کا خدشہ


ہیومین رائٹس واچ نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ شہری لڑائی والے علاقوں سے نکلنے کے قابل ہو سکیں۔

انسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے شدت پسند گروپ داعش سے تکریت شہر کا قبضہ چھڑانے کے لیے برسرپیکار عراقی فورسز اور حکومت کے حامی جنگجوؤں پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں۔

بدھ کو تنظیم نے کہا کہ اس نے ایسے کئی واقعات قلم بند کیے ہیں جن میں فورسز عراق کے دیگر علاقوں کا قبضہ وا گزار کروانے کے دوران انسانی حقوق کی پامالی کی مرتکب ہوئیں۔

تنظیم نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ شہری لڑائی والے علاقوں سے نکلنے کے قابل ہو سکیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے نائب ڈائریکٹر جو اسٹروک نے ایک بیان میں کہا کہ "یہ ضروری ہے کہ عراق میں لڑائی میں مصروف تمام فریق یہ یقینی بنائیں کہ شہری اس کا شکار نہ ہوں اور نہ لوٹ مار ہو اور نہ انتقامی قتل وغارت۔"

ان کا کہنا تھا کہ عراق کی حکومت کس طرح یہ جنگ لڑتی ہے اس کا عراق کے مستقبل پر بہت اہم اثر ہوگا۔

عراق میں اتحادیوں نے اتوار کو دیر گئے تقریباً 30 ہزار جنگجوؤں کے ساتھ داعش کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔

داعش نے گزشتہ سال جون میں تکریت پر قبضہ کر لیا تھا۔

XS
SM
MD
LG